Friday, 9 December 2016

پتے کے امراض

پتہ یعنی مرارہ (Gall Bladder) ایک چھوٹا سا تھیلی نما ناشپاتی کی مانند عضو ہے۔ جو ہمارے شکم کے اوپر دائیں جانب اور جگر کے نیچے واقع ہے۔ اسے جگر کا حصہ بھی کہا جاتا ہے۔ پتہ کوئی چار انچ لمبا اور ایک انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس میں ایک اونس مائع (Fluid) سما سکتا ہے۔ پتے کا کام پت یعنی صفرا (Bile) کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا جگر (Liver) مسلسل صفرا (Bile) تیار کرتا رہتا ہے جو ابتدا میں شفاف ہوتا ہے مگر مرتکز ہو کر اس کی رنگت گہری سبز مائل ہو جاتی ہے۔ یہ اس وقت کثیف ہو جاتا ہے جب چھوٹی آنت (Doudenum) میں بھاری چربیلی غذا ہوتی ہے۔ پتہ (Gall Bladder) خود بخود زور کے ساتھ سکڑتا ہے تو یہ کثیف مائع پت (Bile) نکل کر چھوٹی آنت (Doudenum) میں نالی کے ذریعے آجاتا ہے تا کہ اس بھاری چربیلی غذا کو چھوٹے چھوٹے ذروں میں بدل کر ہضم ہونے میں مدد دے۔ اس طرح پت (Bile) نہ صرف چربیلی غذا کو قابل ہضم بناتا ہے بلکہ فضلات کو خارج کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ آنتوں میں موجود مواد میں سڑاند پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اگر کسی وجہ سے پت کم مقدار میں خارج ہو اور غذا میں چربیلی چکنائی زیادہ ہو تو وہ غذا ہضم نہیں ہوتی۔ کیونکہ پت کی کمی کے باعث چکنائی ٹوٹ کر باریک ذروں کی صورت اختیار نہیں کرتی اور یہی غیر منہضم چربیلی غذا آنتوں میں جراثیم پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح پت (Bile) کے تیزابی مادے بڑھ کر کولیسٹرول (Cholesterol) اور کیلشیم کی زیادتی (Meta Static Calcification) کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح یہ ذرات بڑھ کر پتھری کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

پتے کی پتھری (حصاۃ مرارہ):
پتہ (Gall Bladder) کے امراض میں پتے کی پتھری عام شکایت ہے۔ کبھی ایک پتھری اور کبھی دو تین پتھریاں جو چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں ہو سکتی ہیں۔ مطب کے مشاہدات میں آیا ہے کہ بعض مریضوں میں بجری کی مانند کافی پتھریاں ہوتی ہیں جو کہ کافی خطرناک ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان میں سے کوئی ریزہ پتے کی نالی (Bile Duct) میں جا کر پت کا راستہ روک سکتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بعض افراد میں پت (Bile) اس قدر گاڑھا ہوتا ہے کہ وہ بہنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس میں موجود کولیسٹرول (Cholesterol) مرتکز ہو کر پتھری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ پتھریاں زیادہ بھی ہو جاتی ہیں۔ اس طرح پتے میں پائے جانے والے جراثیم بھی پتے کی پتھری بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان جراثیم کے اطراف میں پتھری کی تشکیل شروع ہو جاتی ہے اور یہ پتھری پت (Bile) کا راستہ روک سکتی ہے جب کہ بعض افراد میں کسی مرض یا کسی اور باعث خون کے سرخ خلیے (Hemoglobin) بڑی تعداد میں ضائع ہونے سے پت گاڑھا ہو جاتا ہے اور نالی سے بہہ نہیں سکتا۔ اس طرح یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ خواتین میں حمل کے بعد پتھری بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین میں بعض کیمیائی تبدیلیوں کے باعث بھی پتھری ہو جاتی ہے۔ اگر پتھری یا پتھریاں چھوٹی چھوٹی ہوں تو ایکسرے میں نہیں آتیں‘ البتہ الٹرا ساؤنڈ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پتے کی پتھری کے لیے عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں۔ تاہم دیکھا گیا ہے کہ درمیانی عمر کی خواتین جن کا جسم موٹاپے کا شکار ہوتا ہے اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں میں سال ہا سال سے پتھری یا پتھریاں ہوتی ہیں اور نالی کے بند نہ ہونے کے باعث کوئی تکلیف نہ ہونے کی وجہ سے انہیں علم نہیں ہوتا۔ اکثر افراد کو پتے کی پتھری کا اس وقت علم ہوتا ہے جب مقدار اور حجم میں بڑھ کر تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ ابتدا میں مریض کو گیس اور ریاح کی شکایت ہوتی ہے۔ جب پتھری صفراوی نالی (Bile Duct) میں جا کر اس کا راستہ بند کر دے تو پیٹ میں درد ہوتا ہے کیونکہ صفراوی نالی (Bile Duct) کا راستہ سکڑ کر بند ہو جاتا ہے اور آنتوں پر پت (Bile) نہیں گرتا جس کی وجہ سے نظام انہضام کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ بعض افراد میں یرقان (Jaundice) جسے پیلیا بھی کہتے ہیں ہو جاتا ہے۔ بعض افراد میں لبلبہ (Pancreas) بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر پتے کی پتھری ہو جائے اور کسی تکلیف کا باعث نہ ہو تو مناسب یہ ہے کہ اسے نہ چھیڑا جائے۔ اگر پتے کی پتھری کے باعث تکلیف ہو یا پت نالی کا راستہ بند ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں سرجن کے مشورے سے پتہ نکلوا دینا ہی مناسب راہ عمل ہے۔ اس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اب جدید ٹیکنالوجی لیپروسکوپی کے ذریعے پتہ نکالنے کا کام مزید آسان ہو گیا ہے اور بغیر چیر پھاڑ کے یہ کام ہو جاتا ہے۔ مگر اس کا فیصلہ ماہر سرجن مریض کی صورت حال کے مطابق کرتا ہے۔ پتہ ایک بند تھیلی ہے جس سے پتھری کو بذریعہ ادویہ اس لیے خارج نہیں کیا جا سکتا کہ پتھری نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ گردے کی پتھری (مفتت حصاۃ) ادویہ سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو کر یا چھوٹی چھوٹی پتھریاں پیشاب کی نالی کے راستہ سے مثانے کے ذریعے خارج ہو سکتی ہیں۔
مطب کے مشاہدہ میں آیا ہے کہ جن افراد نے سرجری سے پتہ نکلوا دیا ان کے معمولات زندگی میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ دوسرے افراد کی طرح نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ اس لیے جن کو پتہ کی پتھری کے باعث تکلیف ہو کسی ماہر سرجن کے مشورے سے نکلوا دیں وگرنہ پتہ گل کر مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

پتے کا ورم (التہاب مرارہ)
بعض افراد کا پتہ متورم ہو جاتا ہے اس کی وجہ عموماً جراثیم کا چھوٹی آنت سے نکل کر پتے میں جمع ہونا یا پتھری کے کسی ریزے کا صفراوی نالی (Bile Duct) کے منہ پر آجانا ہو سکتا ہے۔ جن افراد کا پتہ متورم ہو جائے عموماً ان کو شکم کے بالائی حصہ جوجگر کے نیچے واقع ہوتا ہے پتہ میں درد ہوتا ہے۔ یہ درد بہت شدید ہوتا ہے جو بڑھ کر کمر اور کبھی دائیں کندھے تک چلا جاتا ہے۔ بعض افراد میں قے اور یرقان بھی ہو جاتا ہے‘ اس درد کی مدت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ بعض افراد میں یہ درد کئی کئی روز ہوتا ہے۔ اگر توجہ نہ دی جائے تو پتہ گل کر پھٹ بھی سکتا ہے جس سے سنگین مسائل صحت پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں مریض کو کوئی مائع شے نہ دی جائے فوراً معالج سے رجوع کیا جائے۔ درد کے ازالے کے لیے ذیل کی تدبیر مناسب ہے۔
پودینہ سبز تین گرام‘ الائچی سبز دو عدد اور سبز چائے تین گرام۔ آدھے گلاس پانی میں اُبال کر بغیر شکر ملائے قہوہ کی صورت میں دو گھنٹے بعد دو دو چمچ کھانے والے پی لیا جائے۔ درد کا افاقہ ہونے پر معالج کے مشورے سے پتہ نکلوا دیا جائے وگرنہ کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پر سکتا ہے۔

غذا:
پتے کے امراض سے محفوظ رہنے کے لیے چکنائیوں کا استعمال توازن سے کریں اور غذا میں غذائی ریشہ‘ سالم اناج‘ پھلوں اور سبزیوں کی صورت زیادہ رکھیں۔ ہلکی پھلکی ورزش کریں۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

No comments:

Post a Comment