Friday, 13 April 2018

Earn ETH


its a great site to earn ETH, just Join my link and share only 10 links, you will be rewarded 0.1 ETH
.
https://localetherwallet.com/promo.php

Friday, 9 December 2016

مسواک ... دانتوں کی صحت کی ضامن

’’صحت اَسنان صحت انسان‘‘ یعنی جس کے دانت اچھے اس کی صحت اچھی۔
اگر دانت درست نہ ہوں تو اعضائے جسم کی درماندگی وبوسیدگی کا باعث بنتی ہے جس سے جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے۔ صاف ستھرے‘ چمکیلے اور سفید دانت نہ صرف خوبصورتی وتندرستی کا باعث ہوتے ہیں بلکہ جسم کی جازبیت اور صحت جسم میں اضافہ کرتے ہیں۔ دانتوں کو مضبوط بنانے اور نظام ہضم کے فساد سے بچنے کے لیے دانتوں کو باقاعدگی سے صاف کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر دانتوں کی مناسب صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو دانت بوسیدہ اور مسوڑھے خراب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ خرابی مسوڑھوں میں پیپ اور خون کی تراوش کا باعث بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں منہ سے بدبو اور پھر بدبو دار سانس انسان کو کسی مجلس میں بیٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ ان حالات میں جو غذا لی جائے وہ دانتوں اور مسوڑھوں کی خراب رطوبات کے ساتھ معدہ میں جا کر فساد ہضم کا سبب بنتی ہے جس سے کئی دوسرے اعضاء متاثر ہوتے ہیں اور صحت ختم ہوتی اور جسم امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ذرائع ابلاغ پر دانتوں کی صفائی کے لیے مختلف قسم کے ٹوتھ پیسٹ بڑے دعووں کے ساتھ مشہوری کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ کسی میں فلورائیڈ شامل ہے تو کسی میں لونگ کا تیل‘ ان کو خوشبودار بنانے کے لیے مختلف نباتات سے حاصل کردہ ست (Essence) بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی چینلز) آج کے دور کا اہم ذریعہ ابلاغ ہے۔
عوام کی ایک بڑی تعداد اس سے متاثر ہوتی ہے‘ ہو سکتا ہے کہ ان ٹوتھ پیسٹوں کے کچھ فوائد بھی ہوں مگر یہ فطرت کی اشیاء کا مصنوعی متبادل تو ہوتے ہیں لیکن ان خصوصیات کے حامل نہیں ہوتے۔ بازار میں ملنے والے مختلف قسم کے برانڈ کاروباری اور مصنوعی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود دانتوں کے امراض بڑھ رہے ہیں۔ جوانی اور بڑھاپا ہی نہیں بچپن میں ہی دانت نکلوائے جا رہے ہیں۔ دانتوں  پر لاکھ اور دانتوں میں سوراخ اس کے علاوہ ہیں۔ سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ انسان کے دانت چھوٹے ہو رہے ہیں مگر یہ عمل سست رفتاری سے واقع ہے۔ نوے ہزار سال قبل کے انسان کے دانت آج کے انسان کے مقابل دوگنا تھے۔ امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی میں کئی سالوں سے دانتوں  پر تحقیق جاری ہے ان تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے کا انسان موٹا اناج کھاتا اور جفاکش تھا مگر اب جدید مشینی زندگی کی سہولتوں کے باعث باریک پسی ہوئی اشیاء ملتی ہیں۔ انسان کی صحت کا معیار گر رہا ہے۔ پہلے لوگ گنا دانتوں سے چھیل کر چوسا کرتے تھے اب گنڈیریاں آگئیں اور کون گنا چوسنے کی زحمت کرے؟ اس لیے اب گنے کے رس پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے دانت مسوڑھوں میں نہیں رہتے بلکہ مسوڑھے بھی کمزر ہو رہے ہیں۔ جسم کو توانائی غذا سے ملتی ہے۔ اگر دانت صحت مند نہ ہوں تو غذا صحیح طور  پر ہضم ہو گی اور نہ جسم تندرست رہے گا۔
دانتوں کے امراض سے بچنے کے لیے مسواک کا استعمال ناگزیر ہے۔ فطرت انسانی صحت کے لیے بہت فیاض ہے۔ دانتوں کے لیے مسواک ہمیشہ دستیاب رہتی ہے۔ مسواک کے نرم ریشے ہی دانتوں میں موجود جراثیم کش مادہ دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض ختم کر سکتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی دانتوں کی صحت کے لیے مسواک پر زور دیا گیا ہے۔ یہ سنت بھی ہے۔ علماء کے نزدیک اس کا ثواب بھی ہے اور فوائد بھی۔ تقریباً سات صدیاں قبل سے مسواک کا استعمال ہو رہا ہے۔ اہل عرب اسے بہت مفید خیال کرتے ہیں مگر جدید دور نے جہاں انسان کو آسائشوں کا عادی بنا دیا ہے وہاں وہ اب مسواک کی بجائے ٹوتھ پیسٹ کا عادی بن رہا ہے۔ اسلامی ممالک میں نماز جمعہ کے بعد مساجد کے باہر مسواک فروخت ہوتی ہے لیکن اس کا استعمال کم ہو گیا ہے۔ مگر آسانی سے مل جاتی ہے۔ یہ ایک پنسل کے سائز کی لکڑی نما ہوتی ہے۔

مسواک کی اقسام: 
نیم‘ کیکر‘ پھلاہی‘ زیتون اور سکھ چین۔ مگر ہمارے ہاں پیلو‘ کیکر اور نیم کی لکڑی سے بنی مسواک زیادہ مقبول ہے۔ پیلو میں موجود ٹینک ایسڈ مسوڑھوں میں موجود ردی رطوبات کو دور کر کے انہیں خشک کرتا ہے۔ اس میں موجود فلورائیڈ دانتوں کے انحطاط کو روکنے اور ان کے چمکانے میں کارآمد ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی دانتوں کو صحت مند رکھتا اور کلورین جراثیم کش اثرات رکھتا ہے۔ کیکر کی مسواک دانتوں کو مضبوط‘ صاف کرتی ہے۔ منہ سے بدبو ختم کرتی ہے اور نظر کو فائدہ دیتی ہے۔ نیم کی مسواک کڑواہٹ کے باعث معروف ہے تا ہم منہ سے ردی رطوبات کا اخراج کرتی ہے جس سے منہ صاف اور دانت چمکدار ہوتے ہیں اور دانتوں کے اندر پھنسے غذائی اجزاء نکالتی ہے۔ جراثیم کش ہے۔
مسواک کے استعمال سے زبان میں فصاحت اور بلاغت جیسی خوبی پیدا ہوتی ہے۔ مسواک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک پانی بھرے گلاس میں اس کا سرا بھگو دیں کچھ دیر بعد جب وہ نرم پڑ جائے تو دانتوں سے گیلے حصے کو کچل چھیل کر ٹوتھ برش کی طرح بنا لیں۔ پھر اس حصے سے دانتوں کو اچھی طرح رگڑیں۔ پانچ منٹ تک مسواک کرنا کافی ہے۔ ہر چوبیس گھنٹے بعد مسواک کا وہ حصہ کاٹ کر باقی ڈنڈی سے الگ کر دیں جو استعمال کیا گیا ہے۔
خشک مسواک استعمال نہ کریں کیونکہ یہ مسوڑھوں کو زخمی کر سکتی ہے۔ نیز اپنی جراثیم کش (دافع عفونیت) خصوصیت کھو دیتی ہے۔

مسواک کی خصوصیات: 
  • یہ جراثیم کش (انٹی بایوٹیک) ہے۔
  • یہ دافع عفونیت (انٹی سیپٹک) ہے
  • دانتوں کو کیلشیم اور کلورین فراہم کرتی ہے۔
  • دانتوں کے درمیان موجود غذائی ریشے نکال دیتی ہے۔
  • منہ سے بدبو ختم کرتی ہے‘ مسوڑھوں کی حفاظت کرتی ہے۔
  • دانتوں کو چمک دار بناتی ہے۔ بھوک بڑھاتی اور نظام ہضم درست رکھتی ہے۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

لونگ ... ہاضم اور خوشبو دار

ہمارے ہاں کھانوں کو خوش ذائقہ‘ خوشبودار اور ہاضم بنانے کے لیے صدیوں سے گرم مصالحوں کا استعمال ہوتا ہے۔ لونگ گرم مصالحہ کا ایک جزو ہے۔ جسے عربی میں قرنفل‘ انگریزی میں کلوو (Clove) جب کہ ہندی اور سندھی میں لونگ کہتے ہیں۔ لونگ ہضم کرنے میں بہت معاون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پلاؤ کو خوشبودار بنانے اور ہاضمے کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یخنی میں ڈالا جاتا ہے۔ اپنی خصوصیات کے باعث اسے گرم مصالحے میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ صرف اسی پر بس نہیں لونگ کا جوشاندہ کئی امراض میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لونگ میں ایسے اجزاء بھی شامل ہیں جو خون کی گردش‘ دورانِ خون (Circulation of Blood) کو درست اور جسم کی حرارت کو قائم رکھتے ہیں۔ اس کا درخت اوسط درجے کے قد کا اور بڑا دلکش ہوتا ہے۔ جس کا ابتدائی تعلق تنزانیہ کے قریب ساحلی جزیرے زنجبار سے ہے۔ تا ہم گزشتہ دو ہزار سال سے عرصے سے چین اور برصغیر میں اس کا استعمال عام ہے اور پایا جاتا ہے۔ آٹھویں صدی تک مغربی ممالک میں بھی یہ بہت استعمال ہوتا رہا ہے۔ ہندوستان کی لونگ بہت خوشبودار اور خوش ذائقہ ہوتی ہے۔ سعودی عربیہ میں حرم کے باہر حبشی خواتین لونگ لیے کھڑی ہوتی ہیں۔ لوگ بڑی رغبت سے خریدتے ہیں۔ یہ لونگ بھی خوشبودار ہوتی ہے۔ تازہ لونگ بڑی خوشبودار اور سخت ہوتی ہے۔ جب پرانی ہو جائے تو بھربھری ہو کر ہاتھ لگانے سے ٹوٹ جاتی ہے۔

روغن لونگ 
لونگ کا تیل بھی کشید کیا جاتا ہے جو روغن لونگ کے نام سے مل جاتا ہے۔ یہ صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال ایک دو قطرے سے زیادہ  مناسب نہیں ہے۔ دیسی دوا ساز ادارے یہ روغن تیار کرتے ہیں۔ اسے اگر کسی تیل میں ملا کر جسم پر مالش کی جائے تو جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ایک دو قطرے پینا ریاحی دردوں میں فائدہ دیتا ہے۔ روئی کے ساتھ دانتوں پر لگانے سے درد ختم کر دیتا ہے۔ جلد پر تین چار قطرے لگانا جلد کو ترو تازہ رکھتا اور قوت فراہم کرتا ہے۔

نزلہ زکام کھانسی: 
جب موسم سرما میں نزلہ زکام اور کھانسی ہو جائے تو بعض مریضوں میں شدت کا پانی بہتا ہے۔ چھینکوں سے برا حال ہوتا ہے اور شدت سردی کے باعث تو بعض لوگوں کا کھانس کھانس کر برا حال ہو جاتا ہے یا گلا خراب ہو کر آواز بیٹھ جائے تو ایک لونگ لے کر ذرا سا نمک لگا کر چوسنا بڑا مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چٹکی بھر سفوف بغیر دودھ کے چائے کے قہوہ میں ملا کر پینا بھی فائدہ دیتا ہے۔

دمہ: 
جن لوگوں کو دمہ بلغمی کی شکایت ہوتی ہے‘ اس وقت ان کی طبیعت درست نہیں ہوتی جب تک وہ کھانس کھانس کر بلغم خارج نہ کر لیں۔ ایسے مریضوں کو سردیوں میں اس مرض کی شدت ہوتی ہے اور جب دمہ کا دورہ ہوتا ہے تو ان کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے لونگ پانچ عدد ابال کر چھان کر شہد کا ایک چمچ ملا کر دن میں دو بار پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لونگ آک کے پھول اور نمک سیاہ برابر وزن کوٹ کر گولیاں بنا کر چوس لی جائیں۔ یہ دمہ میں بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے بلغم خارج ہوتا ہے۔

جسم اور جوڑوں کا درد: 
جوڑوں کا درد عموماً موسم سرما میں بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بند چوٹوں کا درد بھی اس موسم میں پریشان کرتا ہے۔ کمزور اعصاب کے لوگوں میں بھی جسم میں درد رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض لوگوں کو جسم میں مختلف مقامات پر درد ہوتا ہے اور وہ اسے ریاحی درد کا نام دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے لونگ کا قہوہ پینا مفید ہے۔ نیز روغن لونگ کو تلوں کے تیل میں ملا کر نیم گرم کر کے مالش کرنا درد کو آرام دیتا ہے۔

سر درد: 
موسم سرما میں درد سر ہو یا درد شقیقہ (یعنی آدھے سر کا درد) جو مریض کو بے چین کر دیتا ہے۔ ایسے مریض لونگ کے چار پانچ دانے پیس کر تھوڑا نمک ملا کر پیشانی پر لیپ کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔

دانت کا درد: 
دانت اور داڑھ میں اگر درد ہو تو روغن لونگ روئی سے لگا کر متاثرہ مقام پر لگانے سے دانتوں‘ داڑھوں اور مسوڑھوں کے درد میں بہت مفید ہے۔

گوع بختی: 
آنکھوں کی پلکوں پر بعض لوگوں کو خارش ہو کر دانے بن جاتے ہیں‘ جنہیں گوع بختی کہا جاتا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ صبح اٹھنے پر یہ بہت تکلیف دیتا ہے۔ جب تک پک نہ جائے اور مواد خارج نہ ہو‘ مریض کو بہت اذیت ہوتی ہے کیونکہ اس دانے میں ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ ایسے مریض اگر لونگ کو مٹی کے گھڑے پر گھس کر دن میں چار پانچ دفعہ لگائیں تو اکثر بیشتر دانہ بیٹھ کر درد ختم کر دیتا ہے۔

کثرت پیشاب: 
بعض لوگوں کو کمزور اعصاب کے باعث موسم سرما میں بار بار پیشاب آتا ہے۔ اس طرح بعض بچے رات سوتے ہوئے بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ موسم سرما میں چٹکی برابر لونگ کا سفوف استعمال کریں تو کثرت پیشاب سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔

ضعف اعصاب: 
آج کی مصروف زندگی اور بڑھتے ہوئے مسائل نے بیشتر افراد کو اعصابی کمزوری میں مبتلا کر دیا ہے جس کو دیکھو وٹامنز اور طاقت کے ٹانک اور ادویہ پر لگا ہوا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے لونگ پیس کر چٹکی برابر کھانے کے لبوبِ کبیر کا درجہ رکھتا ہے۔ بعض لوگوں میں اعصاب کو سردی لگنے کے باعث دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ ایسے لوگ بھی لونگ کا استعمال کریں تو مفید ہے۔

ہچکی‘ قے اور بدہضمی: 
معدہ کی خرابی کے علاوہ جن لوگوں کو ہچکی کا اذیت دینے والا مرض ہو یا جی متلاتا ہو‘ معدے میں گیس ریاح پیدا ہوتے ہوں تو لونگ کا چٹکی برابر سفوف اور عرق سونف (بادیان) کے ساتھ استعمال کرنا بہت مفید ہے۔ اگر قے آتی ہو تو شہد ایک چمچہ کے ساتھ استعمال کرنا فائدہ مند ہے۔ اگر قے کی شدت ہو تو لونگ کا چٹکی برابر سفوف عرق پودینہ کے ساتھ استعمال کرانا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

پرانے زخم یا بند چوٹ: 
اگر پرانے زخم کسی طرح ٹھیک نہ ہوتے ہوں یا موسم سرما میں بند چوٹ میں درد نکل آئے تو روغن لونگ اور ہلدی کا مرہم اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔
.
تحریر:  جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

مالٹا ... دماغی کام کرنے والوں کے لیے اھم غذا

پھل نعمت رب جلیل ہیں اور حضرت انسان کے لیے قدرت کی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ پھلوں میں شکریلے اجزاء اور جسم کو توانائی و حرارت پیدا کرنے والے نیز حیاتین کی مختلف اقسام بکثرت موجود ہوتی ہیں۔ انہیں غذائی ادویہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ پھلوں کی ایک اہم خوبی ان کا زود ہضم ہونا ہے، اس طرح نہ صرف یہ خود ہضم ہو کر فرحت کا احساس دلاتے ہیں بلکہ غذا کے ہاضمے میں مدد دیتے ہیں۔ ان پھلوں میں ایک مالٹا ہے جو ہمارے ہاں بکثرت ہوتا ہے اور اسی تناسب سے استعمال ہوتا ہے۔ نارنگی، سنگترہ، جاپانی پھل (پرسمین) کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ خاندان ترشاوہ کہلاتا ہے۔ ترشاوہ پھلوں کا شمار غذائی اعتبار سے اہم پھلوں میں ہوتا ہے تاہم ہر ایک کی رنگت، خوشبو، ذائقہ اور تاثیر الگ الگ ہے لیکن مالٹا رنگ، خوشبو، ذائقہ اور تاثیر کے لحاظ سے اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ مالٹا مسمی کے مقابل بڑا اور زیادہ ترش ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس کی ایک اور قسم کی کاشت بھی خوب ہونے لگی ہے جو اندر سے سرخ اور چقندری رنگ کی ہوتی ہے، اس حوالے سے یہ ریڈ بلڈ کہلاتی ہے۔ مالٹا تمام عمر کے لوگ بڑی رغبت سے استعمال کرتے ہیں اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ مالٹے کے کیمیائی اجزاء میں سٹرک ایسڈ اور حیاتین ج (وٹامن سی) بکثرت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ معدنی نمک مثلاً کیلشیم، میگنیشیم، فولاد، پوٹاشیم، فاسفورس، جست اور تانبا وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ مالٹے کا جوس (رس) ہاضم ہوتا ہے جسم کی قوت مدبرہ کی اصلاح کرتا ہے۔ دل و دماغ کو فرحت بخشتا اور معدہ کو قوت دیتا ہے۔ صالح خون پیدا کرتا ہے جس سے رنگت صاف ہو کر اس میں نکھار آتا ہے۔ شدت گرمی میں اس کا استعمال گرمی سے تسکین دیتا ہے۔ یوں یہ موسمی شدتوں سے بچاتا ہے۔ ویسے بھی قدرتی نظام کے تحت پھل اپنے موسمی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ حدت اور گرمی کم کرنے کے لیے یہ قدرتی ٹانک ہے، گرمی اور زہروں کو ختم کرتا ہے۔ وہم اور وحشت میں فائدہ دیتا ہے، طبیعت میں چستی و فرحت پیدا کرتا ہے، مالٹا زود ہضم ہے اور حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہو جاتا ہے، نیز غذا کے ہاضمے میں مدد دیتا ہے۔
طب کے نکتہ نگاہ سے مالٹا صفرا کو کم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ صفراوی بخاروں میں مفید ہے۔ مالٹے کا رس استعمال کرنے سے طبیعت کو تسکین ملتی ہے، دل و دماغ کو فرحت کا احساس ہوتا ہے اور جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ مالٹے کے پھول میں معدنی اجزاء کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ یوں اس کا صرف رس ہی استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ پھول بھی کھا لینا چاہیے۔ اس طرح یہ پھل غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریشہ (فائبر) بھی فراہم کرتا ہے جو قبض کے لیے مفید ہے۔ ریشہ کے اور بھی بہت فوائد ہیں۔ مالٹے میں چونکہ مٹھاس کم ہے اس لیے ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے علاوہ ان کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو موٹاپے سے نجات چاہتے ہیں، مالٹا کا چھلکا جس قدر پتلا ہو گا اسی قدر غذائی اجزاء سے موثر ہو گا اور ذائقہ بھی اچھا ہوگا۔ اس کے چھلکوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے سکھالیں تو چاولوں کو خوشبودار بناتے ہیں اور ہمارے ہاں گھروں میں انہیں اس طرح استعمال کیا جاتا ہے ان چھلکوں کا مربہ اور ابٹن بھی بنایا جاتا ہے اس ابٹن سے نہ صرف چہرے کے داغ، دھبے اور چھائیاں دور ہوتے ہیں بلکہ چہرے کی جلد میں قدرتی نکھار پیدا ہوتا ہے۔
البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ وہ لوگ جن کو نزلہ، زکام اور کھانسی کا عارضہ ہو وہ مالٹا کا استعمال نہ کریں کیونکہ ان عوارضات میں مالٹا استعمال کرنا مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ لوگ جن کا گلا ترش اشیاء کا متحمل نہیں ہو سکتا انہیں اس کے ساتھ کالی مرچ اور تھوڑا نمک لگا کر استعمال کرنا چاہیے، قدرت کا یہ خوبصورت خوش ذائقہ پھل جام زریں ہے اور اس موسم میں اس جام زریں کو خوب منہ لگائیے۔
.
تحریر:  جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

پتے کے امراض

پتہ یعنی مرارہ (Gall Bladder) ایک چھوٹا سا تھیلی نما ناشپاتی کی مانند عضو ہے۔ جو ہمارے شکم کے اوپر دائیں جانب اور جگر کے نیچے واقع ہے۔ اسے جگر کا حصہ بھی کہا جاتا ہے۔ پتہ کوئی چار انچ لمبا اور ایک انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس میں ایک اونس مائع (Fluid) سما سکتا ہے۔ پتے کا کام پت یعنی صفرا (Bile) کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا جگر (Liver) مسلسل صفرا (Bile) تیار کرتا رہتا ہے جو ابتدا میں شفاف ہوتا ہے مگر مرتکز ہو کر اس کی رنگت گہری سبز مائل ہو جاتی ہے۔ یہ اس وقت کثیف ہو جاتا ہے جب چھوٹی آنت (Doudenum) میں بھاری چربیلی غذا ہوتی ہے۔ پتہ (Gall Bladder) خود بخود زور کے ساتھ سکڑتا ہے تو یہ کثیف مائع پت (Bile) نکل کر چھوٹی آنت (Doudenum) میں نالی کے ذریعے آجاتا ہے تا کہ اس بھاری چربیلی غذا کو چھوٹے چھوٹے ذروں میں بدل کر ہضم ہونے میں مدد دے۔ اس طرح پت (Bile) نہ صرف چربیلی غذا کو قابل ہضم بناتا ہے بلکہ فضلات کو خارج کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ آنتوں میں موجود مواد میں سڑاند پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اگر کسی وجہ سے پت کم مقدار میں خارج ہو اور غذا میں چربیلی چکنائی زیادہ ہو تو وہ غذا ہضم نہیں ہوتی۔ کیونکہ پت کی کمی کے باعث چکنائی ٹوٹ کر باریک ذروں کی صورت اختیار نہیں کرتی اور یہی غیر منہضم چربیلی غذا آنتوں میں جراثیم پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح پت (Bile) کے تیزابی مادے بڑھ کر کولیسٹرول (Cholesterol) اور کیلشیم کی زیادتی (Meta Static Calcification) کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح یہ ذرات بڑھ کر پتھری کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

پتے کی پتھری (حصاۃ مرارہ):
پتہ (Gall Bladder) کے امراض میں پتے کی پتھری عام شکایت ہے۔ کبھی ایک پتھری اور کبھی دو تین پتھریاں جو چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں ہو سکتی ہیں۔ مطب کے مشاہدات میں آیا ہے کہ بعض مریضوں میں بجری کی مانند کافی پتھریاں ہوتی ہیں جو کہ کافی خطرناک ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان میں سے کوئی ریزہ پتے کی نالی (Bile Duct) میں جا کر پت کا راستہ روک سکتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بعض افراد میں پت (Bile) اس قدر گاڑھا ہوتا ہے کہ وہ بہنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس میں موجود کولیسٹرول (Cholesterol) مرتکز ہو کر پتھری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ پتھریاں زیادہ بھی ہو جاتی ہیں۔ اس طرح پتے میں پائے جانے والے جراثیم بھی پتے کی پتھری بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان جراثیم کے اطراف میں پتھری کی تشکیل شروع ہو جاتی ہے اور یہ پتھری پت (Bile) کا راستہ روک سکتی ہے جب کہ بعض افراد میں کسی مرض یا کسی اور باعث خون کے سرخ خلیے (Hemoglobin) بڑی تعداد میں ضائع ہونے سے پت گاڑھا ہو جاتا ہے اور نالی سے بہہ نہیں سکتا۔ اس طرح یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ خواتین میں حمل کے بعد پتھری بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین میں بعض کیمیائی تبدیلیوں کے باعث بھی پتھری ہو جاتی ہے۔ اگر پتھری یا پتھریاں چھوٹی چھوٹی ہوں تو ایکسرے میں نہیں آتیں‘ البتہ الٹرا ساؤنڈ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پتے کی پتھری کے لیے عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں۔ تاہم دیکھا گیا ہے کہ درمیانی عمر کی خواتین جن کا جسم موٹاپے کا شکار ہوتا ہے اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں میں سال ہا سال سے پتھری یا پتھریاں ہوتی ہیں اور نالی کے بند نہ ہونے کے باعث کوئی تکلیف نہ ہونے کی وجہ سے انہیں علم نہیں ہوتا۔ اکثر افراد کو پتے کی پتھری کا اس وقت علم ہوتا ہے جب مقدار اور حجم میں بڑھ کر تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ ابتدا میں مریض کو گیس اور ریاح کی شکایت ہوتی ہے۔ جب پتھری صفراوی نالی (Bile Duct) میں جا کر اس کا راستہ بند کر دے تو پیٹ میں درد ہوتا ہے کیونکہ صفراوی نالی (Bile Duct) کا راستہ سکڑ کر بند ہو جاتا ہے اور آنتوں پر پت (Bile) نہیں گرتا جس کی وجہ سے نظام انہضام کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ بعض افراد میں یرقان (Jaundice) جسے پیلیا بھی کہتے ہیں ہو جاتا ہے۔ بعض افراد میں لبلبہ (Pancreas) بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر پتے کی پتھری ہو جائے اور کسی تکلیف کا باعث نہ ہو تو مناسب یہ ہے کہ اسے نہ چھیڑا جائے۔ اگر پتے کی پتھری کے باعث تکلیف ہو یا پت نالی کا راستہ بند ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں سرجن کے مشورے سے پتہ نکلوا دینا ہی مناسب راہ عمل ہے۔ اس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اب جدید ٹیکنالوجی لیپروسکوپی کے ذریعے پتہ نکالنے کا کام مزید آسان ہو گیا ہے اور بغیر چیر پھاڑ کے یہ کام ہو جاتا ہے۔ مگر اس کا فیصلہ ماہر سرجن مریض کی صورت حال کے مطابق کرتا ہے۔ پتہ ایک بند تھیلی ہے جس سے پتھری کو بذریعہ ادویہ اس لیے خارج نہیں کیا جا سکتا کہ پتھری نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ گردے کی پتھری (مفتت حصاۃ) ادویہ سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو کر یا چھوٹی چھوٹی پتھریاں پیشاب کی نالی کے راستہ سے مثانے کے ذریعے خارج ہو سکتی ہیں۔
مطب کے مشاہدہ میں آیا ہے کہ جن افراد نے سرجری سے پتہ نکلوا دیا ان کے معمولات زندگی میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ دوسرے افراد کی طرح نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ اس لیے جن کو پتہ کی پتھری کے باعث تکلیف ہو کسی ماہر سرجن کے مشورے سے نکلوا دیں وگرنہ پتہ گل کر مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

پتے کا ورم (التہاب مرارہ)
بعض افراد کا پتہ متورم ہو جاتا ہے اس کی وجہ عموماً جراثیم کا چھوٹی آنت سے نکل کر پتے میں جمع ہونا یا پتھری کے کسی ریزے کا صفراوی نالی (Bile Duct) کے منہ پر آجانا ہو سکتا ہے۔ جن افراد کا پتہ متورم ہو جائے عموماً ان کو شکم کے بالائی حصہ جوجگر کے نیچے واقع ہوتا ہے پتہ میں درد ہوتا ہے۔ یہ درد بہت شدید ہوتا ہے جو بڑھ کر کمر اور کبھی دائیں کندھے تک چلا جاتا ہے۔ بعض افراد میں قے اور یرقان بھی ہو جاتا ہے‘ اس درد کی مدت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ بعض افراد میں یہ درد کئی کئی روز ہوتا ہے۔ اگر توجہ نہ دی جائے تو پتہ گل کر پھٹ بھی سکتا ہے جس سے سنگین مسائل صحت پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں مریض کو کوئی مائع شے نہ دی جائے فوراً معالج سے رجوع کیا جائے۔ درد کے ازالے کے لیے ذیل کی تدبیر مناسب ہے۔
پودینہ سبز تین گرام‘ الائچی سبز دو عدد اور سبز چائے تین گرام۔ آدھے گلاس پانی میں اُبال کر بغیر شکر ملائے قہوہ کی صورت میں دو گھنٹے بعد دو دو چمچ کھانے والے پی لیا جائے۔ درد کا افاقہ ہونے پر معالج کے مشورے سے پتہ نکلوا دیا جائے وگرنہ کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پر سکتا ہے۔

غذا:
پتے کے امراض سے محفوظ رہنے کے لیے چکنائیوں کا استعمال توازن سے کریں اور غذا میں غذائی ریشہ‘ سالم اناج‘ پھلوں اور سبزیوں کی صورت زیادہ رکھیں۔ ہلکی پھلکی ورزش کریں۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

بلڈ پریشر ... ایک خاموش قاتل

دنیا بھر میں سب سے بڑے خوفناک مرض کی صورت میں سامنے آنے والی دل کی علامت بلڈ پریشر یعنی خون کی نالیوں کا سکڑنا اور پھیلائو ہونا ہے۔ سکڑ کے عمل کے دوران وہ خون کو ایک طرف سے جسم کے نظام دوران میں داخل کرتا ہے اور دوسری طرف سے گندے خون کی ایک مقدار پھیپھڑوں کو تازہ آکسیجن حاصل کرنے کے لیے روانہ کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر آرام کرتا ہے یعنی خون کو جسم اور پھیپھڑوں کی جانب روانہ کرنے کے بعد ایک مختصر عرصہ کے لیے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے۔
یہ نظام اگر انسانی جسم میں ایک نظم و ضبط اور تسلسل سے جاری رہے تو انسان صحت مند کہلاتا ہے لیکن اس نظم و ضبط میں جب کبھی اور جہاں کہیں بھی خرابی واقع ہوتی ہے تو مرض رونما ہو جاتا ہے۔ دل انسانی جسم کو خون کی صورت میں غذا مہیا کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔ یہ عضو رئیس بھی ہے۔ یہ اپنے پمپ کے دبائو اور حرکت کی صورت میں 57cc خون اپنی ہر حرکت پر نالیوں میں پھینکتا ہے۔ دورانِ خون میں تین اشیاء یا عوامل کار فرما ہیں‘ جو یہ ہیں:
(1) خون کا دبائو     (2) خون کا بہائو      (3) رکاوٹ

خون کا دبائو:   
خون میں دبائو کی وجہ سے رطوبات (پلازما) کی کمی ہوتی ہے اور شریانوں میں اس کا بہائو سست ہوگا، خون گاڑھا ہوگا اور شریانوں میں اس کا گزر مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ خون کے بہائو میں ایک دوسرا مانع پلازما یا رطوبات خون میں لحمی اجزاء کی موجودگی ہے لیکن پانی کی قلت انتہائی اہم ہے جبکہ پانی کی نسبت رطوبت خون کی اہلیت 1-5 تا دگنا ہوتی ہے گویا جوں جوں خون گاڑھا ہوگا، اس میں پانی کی مقدار کم ہوگی، خون کا دبائو زیادہ بڑھے گا۔ 

بلڈ پریشر علامات مرض:  
شروع میں جب مریض سیڑھیاں چڑھتا ہے یا کوئی سخت محنت والا کام کرتا ہے تو اس کا سانس پھولنے لگتا ہے، سینہ میں بوجھ یا دبائو کا احساس ہوتا ہے، اس کے علاوہ دردِ سر، بے خوابی اور بے چینی مزاج میں چڑچڑاپن، رنج و غصہ میں مبتلا ہو جانا، دورانِ خون تیز ہو جانا، دماغ میں چھوٹی شریان کا پھٹ جانے سے دماغ کے اندر جریانِ خون ہو کر مریض کو سکتہ یا فالج ہو جاتا ہے۔ 

بلڈ پریشر اور قانونِ مفرد اعضاء:  
بلڈ پریشر بذاتِ خود کوئی مرض نہیں بلکہ یہ خون کے دبائو میں اتار چڑھائو کی ایک علامت ہے۔ نشہ آور چیزوں شراب، چرس، تمباکو کے استعمال سے یہ کیفیت پیدا ہو جایا کرتی ہے۔ کثرت چائے نوشی، رات کو دیر تک جاگنے سے بھی خون کے دبائو میں اضافہ ہو جایا کرتا ہے اور جو لوگ مرغن اغذیہ استعمال کر کے ورزش نہیں کرتے وہ بھی اس عارضہ کی زد میں آجایا کرتے ہیں۔ خواہشات نفسانی کے غلام اس ناگوار صورت سے دوچار ہو جایا کرتے ہیں۔ مرض کی تین صورتیں ہیں:
  1. دل کے فعل کی تیزی کی وجہ سے شریانوں میں سکیڑ پیدا ہو جاتا ہے جس سے دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہو جایا کرتی ہے۔ دل اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے خون کے دبائو میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سانس تنگی سے آتا ہے، دل کے مقام پر درد اور گھٹن محسوس ہوتی ہے اور ساتھ اختلاجی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ مریض کے قارورے کا رنگ سرخی مائل بہ سیاہ ہوتا ہے یعنی عضلاتی (خشکی) تحریک ہوتی ہے جس سے خون میں دبائو بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹ میں ہوا کا بھرجانا، قبض کا ہونا، سر میں درد، بے خوابی جیسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔
  2. جگر کے فعل کی تیزی کے سبب اس کی متعلقہ وریدوں میں سکیڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ دل میں تحلیل کی وجہ سے اس کا حجم بڑھ جاتا ہے جس سے خون کے بہائو میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے نظام بدن خون کے دبائو میں اضافہ پیدا کرتا ہے جس سے دل کی رفتار سست ہو جاتی ہے، اس کو ہی لازمی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔
  3. دماغ کے فعل میں تیزی ہو کر اس کی عروق کشادہ ہو جاتی ہیں جس سے دل کی حرکت سست پڑ جاتی ہے۔ دل پھول کر طبعی حجم سے بڑا ہو جاتا ہے جس سے دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، اس کو بلڈ پریشر کہتے ہیں۔
بلڈ پریشر بڑھانے والے عوامل    
ہائی بلڈپریشر میں عموماً جو اسباب ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں وہ گردوں اور جگر کا سکیڑ، دائمی قبض و تیزابیت، جسمانی و دماغی محنت، آنتوں کی عفونت، کثرتِ نشہ، شراب اور تمباکو نوشی، موسم وماحول کی تبدیلی اور ہر ایسی علامت جس سے خون میں سے رطوبات کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔
 گردوں کی خرابی    گردوں کی بیماریاں پریشر کا باعث بنتی ہیں جیسے پیشاب میں پروٹین کا آنا، گردوں میں رکاوٹ، رسولیاں، پتھریاں، سوزش بھی ان کو متاثر کر دیتے ہیں جس سے گردوں میں خرابی پیدا ہو کر پریشر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
   تیزابیت و قبض:    تیزابیت و قبض کی وجہ سے عضلات میں سکیڑ پیدا ہوتا ہے اور سکیڑ سے خون کے بہائو میں رکاوٹ پیدا ہو کر اس میں خون کا دبائو بڑھ جاتا ہے جس سے بلڈ پریشر کا مرض پیدا ہو جاتا ہے۔
  مانع حمل ادویات:    حمل کو روکنے والی ادویات نسوانی غدودوں کے جوہروں سے تیار ہوتی ہیں۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ باقاعدگی سے یہ ادویہ کھانے والی خواتین کو بلڈ پریشر ہو جاتا ہے۔
عام طور پر بلڈپریشر میں اضافہ خون کی نالیوں کے الاسٹک کی خرابی یا ذہنی دبائو سے ہوتا ہے۔ ان خواتین میں اضافہ کی خاص وجہ ان گولیوں کا استعمال ہے۔ گولیوں کے اثرات سے عضلات میں سکیڑ واقع ہوتا ہے جس سے ان میں بلڈ پریشر میں اضافہ، دل کی بیماری اور فالج کے امکانات دوسری عورتوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔
  مقوی ادویات اور بلڈ پریشر:   مردمی کمزوری کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات سے دل کی نالیوں کی بندش کے باعث دل کا دورہ پڑنے کے حادثات دیکھنے میں آئے ہیں۔ امریکہ کے ڈاکٹروں نے جو مقوی باہ دوائی ’’ویاگرا‘‘ نامی تیار کی ہے اس کے مضر اثرات کا پوری دنیا میں ایک شور پیدا ہو گیا ہے۔ خود امریکہ میں گزشتہ چند برسوں میں کم از کم ہزاروں افراد کو دل کا دورہ پڑا ہے۔
  مرغن کھانے:    غیر ہضم شدہ غذا سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے جس سے شریانیں تنگ اور بے لچک ہو جاتی ہیں، اس حالت میں غذا کو ہضم کرنے کے لیے دل کو زیادہ خون پمپ کرنا پڑتا ہے اور اس طرح خون کا دبائو بڑھ جاتا ہے جو بلڈ پریشر کا باعث بن جاتا ہے۔
  ماحول:    ماحول بھی ہماری صحت پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ذہنی دبائو، تھکن اور اعصابی تنائو کی کیفیت پیدا کر کے پریشر میں زیادتی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شور بلڈ پریشر میں اضافہ کرتا ہے۔ آس پاس میں شور ہو یا ہمسایہ سے آنے والی آوازیں بھی پریشر میں اضافہ یا بے آرامی کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ خاموش اور پرسکون علاقوں میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور شوروغل ٹریفک کی آوازیں گاڑیوں کی دھمک بے سکونی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  علاج    خون کے دو بڑے اجزاء ہیں: ایک ذرات خون۔ دوسرا رطوبت خون۔ ذرات خون کی بھی دو اقسام ہیں۔ ایک سرخ ذرات، دوسرے سفید ذرات، رطوبت کا سیال بیرونِ خلیات کا ایک حصہ ہے اور یہ سیال جو اندرونِ خلیات ہوتا ہے اس میں پانی کی قلت ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس کے علاج میں رطوبت (پلازما) کو پیدا کیا جائے جس سے خون میں رطوبت کی قلت ختم ہو اور خون اپنی مقررہ مقدار میں جسم میں اپنا کام سرانجام دے سکے۔ قانونِ صابر کے مطابق یہ غدی مرض ہے لہٰذا اس کا اعصابی ادویہ و اغذیہ سے علاج کیا جائے۔
   غذائی علاج:    مجدد طب حکیم انقلاب فرماتے ہیں کہ اس مسلم حقیقت سے کوئی صاحبِ بصیرت انکار کی جرأت نہیں کر سکتا کہ انسانی زندگی کے قیام اور صحت کاملہ کا دارومدار کھانے پینے اور ہوا پر ہے۔ اس اہم پروگرام میں غذا کو بے پناہ اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ غذا سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے وہ اس صرف شدہ قوت کا بدل بنتی ہے جو انسان روزمرہ کے فرائض کی انجام دہی میں صرف کرتا ہے۔ بعض لوگوں میں کثرتِ محنت کی وجہ سے قوت بدنی کے زیادہ خرچ ہونے کے سبب تحلیل واقع ہو جاتی ہے۔ ان میں سے بعض دماغی محنت کرتے ہیں جس سے اعصابی دبائو بڑھ کر پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ جسمانی محنت تو نہیں کرتے اور اپنی نشت طلبی کے باوجود کھانے پینے کے بہت دلدادہ ہوتے ہیں۔ کثرتِ غذا کے سبب ان لوگوں کے گردے اور جگر اپنے وظائف مفوضہ کی انجام دہی سے قاصر ہو جاتے ہیں جس سے بدن کے اہم اعضائے جسمانی میں ضعف لاحق ہو کر صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ پس ہر انسان کے فرائض حیات کو سامنے رکھ کر اس کے لیے ایسی غذا کا تعین ضروری ہے جسے استعمال کر کے وہ اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو کر صحت مند اور تندرست رہے۔ یہ امر ماہرین کے نزدیک متفق علیہ ہے کہ پہلے انسانوں اور حیوانوں میں خون کی پیدائش غذا کی مرہون ہوتی ہے۔ خون پیدا کرنے میں کسی بڑے بڑے ٹانک حیاتین یا دیگر قوت پیدا کرنے والی ادویات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رہے کہ غذا اگر بھوک کے بغیر کھائی جائے تو اس سے خون کی پیدائش کے بجائے جسم میں تعفن و خمیر پیدا ہوگا جس سے معدی عوارض جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانونِ مفرد اعضاء کے حاملین مطب میں آنے والے ہر مریض کو اس امر کی ہدایت کرتے ہیں کہ جب تک شدید بھوک پیدا نہ ہو اس وقت تک کھانا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ اس سے مریض کے جسم سے خمیر اور عفونت کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور مریض شاہراہِ صحت پر گامزن ہو کر کامل شفا سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ 

ہائی بلڈ پریشر کے مریض کیلئے غذائی چارٹ 
  ناشتہ:    تلبینہ (جو کا دلیا شہد+ دودھ کی مدد سے تیار)، حلوہ گاجر، حلوہ کدو، ساگو دانہ کی کھیر، کسٹرڈ، اُبلے ہوئے چاول، ہریرہ، مغز بادام، سویاں دودھ والی، دودھ جلیبیاں، اسپغول کی کھیر، مربہ سیب، مربہ گاجر۔
  کھانا:    مولی، گاجر، کدو، توری، اروی، شلجم، ٹینڈیاں، چقندر، دال ماش، دال مونگ، خرگوش، سری پائے، مغز بکرا۔
  مصالحہ جات:   سالن میں کالی مرچ اور دھنیا، زیرہ سفید ڈال کر دیسی گھی میں پکائیں۔
  پھل:    کیلا، گرما، شکر قندی، گنڈیریاں، مسمی، ناشپاتی، خربوزہ۔
میوہ جات:     دودھ، رس گنا، شربت بزوری، شہد کا شربت، شربت نیلوفر، شربت صندل، ناریل کا پانی، تازہ پتلی لسی، کیلے کا ملک شیک، انار کا جوس۔ مسمی کا جوس۔
 سلاد:    کھیرا، مولی، گاجر، چقندر، امرود۔
نوٹ: ذیابیطس کے مریض اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کریں۔
  مجربات:   غذائی علاج کے ساتھ مجربات کو بھی ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ذیل میں چند اہم نسخہ جات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
  ھوالشافی:    کشتہ ابرک سفید 4 تولہ، گلوکوز 4تولہ، قلمی شورہ ایک تولہ، الائچی سبز ایک تولہ۔
  ترکیب تیاری:   تمام ادویہ کو نہایت باریک کر کے اعلیٰ قسم کا کشتہ اس میں ڈال کر محفوظ کر لیں بس تیار ہے۔
  مقدار خوراک:    ایک ماشہ صبح شام منہ میں رکھ کر چٹائیں یا نیم گرم دودھ سے استعمال کریں۔
  فوائد:    ہائی بلڈ پریشر کو منٹوں میں سکون مہیا کرتا ہے۔ خفقان دل کی گھبراہٹ، سانس پھولنا اور پیاس کی شدت کو ختم کرتا ہے۔
  تریاق فشار:    اسرول آدھا تولہ، صندل سفید 5 تولہ
  ترکیب تیاری:   تمام ادویہ کو نہایت باریک سفوف بنا لیں۔ 4 رتی سے ایک ماشہ دن میں چار بار عرق گائوزبان پانچ تولہ کے ساتھ استعمال کریں۔
  جوارش شاہی:    مربہ سیب 5 تولہ، مربہ گندر، کشنیز خشک 5 تولہ، الائچی خورد 2 تولہ، صندل سفید 2 تولہ، گلِ سُرخ 2 تولہ، شہد سہ چند۔
تمام ادویہ کو معروف طریقہ سے جوارش تیار کر لیں اور 6 ماشہ سے ایک تولہ تک دن میں دو سے چار بار تک کھلائیں۔
.
تحریر: جناب حکیم رفیق احمد صابر

جَو ... شفاء بخش غلہ

نام:۔ جو کو عربی میں شعیر، بنگالی میں جب، سندھی میں جؤ، سنسکرت میں بوہ یا باوا اور انگریزی میں (Barley) کہا جاتا ہے۔
صفات و شناخت:۔ خوردنی اجناس میں سے ایک عام چیز ہے۔ گندم سے پہلے پک کر تیار ہو جاتا ہے۔ وہ جؤ زیادہ بہتر ہوتے ہیں جو سرخ زمین میں کاشت کیے گئے ہوں اور ان کو برسات کا پانی ملتا رہا ہو۔ پوری طرح پکا ہوا اور وزن میں بھاری ہو، تازہ جو ٔزیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ اگر ایک سال پرانے ہو جائیں تو زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتے۔
مزاج:۔ سرد خشک مزاج رکھتے ہیں۔ 

خواص و فوائد: 
اس میں گیہوں کی نسبت نشاستہ کم ہوتا ہے۔
نبی کریمﷺ اسے بہت پسند کرتے تھے۔ آپﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ اس کا واسطہ بطور روٹی، دلیہ اور بطور ستو احادیث نبویﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ام المنذرؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس نبی کریمﷺ، حضرت علیؓ کے ہمراہ تشریف لائے۔ ہمارے ہاں کھجور کے خوشے پکے ہوئے موجود تھے۔ وہ ان کی خدمت میں پیش کیے گئے۔ اس میں سے انہوں نے تناول فرمایا۔ جب حضرت علیؓ تھوڑے کھا چکے تو رسول اللہﷺ نے روک دیا اور فرمایا کہ: ’’تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور مزید مت کھائو۔‘‘ اس کے بعد میں نے ان کے لیے جؤ تیار کیے۔ نبیﷺ نے علیؓ سے کہا: ’’ تم اس میں سے کھائو یہ تمہارے لیے مفید ہے۔‘‘
اسی طرح حضرت انسؓ بن مالک فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کی دعوت کی اور جؤ کی روٹی کے ساتھ گوشت پکایا۔ حضورﷺ بڑی محبت سے سالن سے کدو کے ٹکڑے تلاش کر کے تناول فرماتے تھے۔ رسول اللہﷺ کے اہل خانہ سے جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو حکم ہوتا تھا کہ اس کے لیے جو کا دلیہ تیار کیا جائے۔ پھر آپﷺ فرماتے تھے کہ یہ بیمار کے دل سے غم کو اتار دیتا ہے اور اس کی کمزوری کو دور کر دیتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہr بیمار کے لیے جؤ کو دودھ میں پکا کر اس میں شہد ڈال کر تلبینہ تیار کرواتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ بیمار اس کو ناپسند کرتا ہے لیکن یہ اس کے لیے بہت مفید ہے۔ تلبینہ تھکن اور پریشانی کو بھی دور کرتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ تلبینہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس خدا کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ تمہارے پیٹوں سے غلاظت کو دور کرتا اور دل کے جملہ عوارض کا علاج ہے۔ آپﷺ اس تلبینہ کو قابل برداشت گرم گرم، بار بار اور خالی پیٹ تناول فرماتے تھے۔
جؤ کے بارے میں بو علی سینا نے لکھا ہے کہ جؤ کھانے سے خون پیدا ہوتا ہے۔ یہ خون معتدل، صالح اور کم گاڑھا ہوتا ہے۔ فردوس الحکمت میں لکھا ہے کہ جؤ کو اس کے وزن کے پندرہ گنا پانی میں اتنی دیر تک ہلکی آنچ پر پکایا جائے کہ تیسرا حصہ اڑ جائے۔ اس کو ’’آش جؤ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ پانی جسم کی ایک سو بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ شمس الدین ثمرقندی اسے فوائد کے لحاظ سے گندم کو کم تر درجہ دیتا ہے۔ مگر وہ گندم سے اس لحاظ سے فضیلت دیتا ہے کہ یہ جسم کی گرمی اور تپش کو کم کرتا ہے۔ اس کا حریرہ قابض دوائوں کے ساتھ دست روکتا ہے۔ جؤ کے آٹے میں چھاچھ ملا کر پینے سے صفراوی قے، پیاس کی شدت اور معدہ کی سوزش میں فائدہ مند ہے۔ اطباء نے اعصابی دردوں، اورام، سوزشوں اور خارش کی مختلف اقسام میں اس کے استعمال کو مفید بتایا ہے۔ اس کا آٹا سرکہ میں گوندھ کر لگانے سے ہر قسم کی خارش میں مفید ہے۔ یہ سر کی پھپھوندی کو دور کرتا ہے۔ اس کے آٹے کو شہد کے پانی میں گوندھ کر لیپ کریں تو بلغمی اورام تحلیل ہوتے ہیں۔ سفرجل (بہی) کا چھلکا اتار کر اسے جؤ اور سرکہ کے ساتھ پیس کر جوڑوں کے درد اور اعصابی دردوں پر لگانا نفع بخش ہے۔ اس کے ساتھ تخم خیارین (کھیرا) پیس کر پلورسی، پستان کے درد پر لگانا مفید ہے۔ جؤ اور گیہوں کی بھوسی کو پانی میں ابال کر اس پانی سے کلیاں کریں تو دانت کا درد جاتا رہتا ہے۔ ہرے دھنیے کے پانی میں جؤ کا آٹا ملا کر خنازیر اور گرم و سخت اورام تحلیل ہو جاتے ہیں۔ سرکہ میں اس کا آٹا ملا کر پیشانی پر لیپ کرنے سے گرمی کا درد سر دور ہوتا ہے۔ جؤ صفرا اور خون کو درست کرتا ہے۔ حلق کے امراض کو نافع ہے۔ بلغم، جریان اور گرمی کو مٹاتا ہے۔ جسم سے چربی کم کر کے موٹاپا کم کرتا اور جسم کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کی پتلی کھچڑی پکا کر اس میں شہد ملا کر ٹھنڈی کر کے کھانے سے بخار، قے اور صفراوی دردشکم میں بہت مفید ہے۔
اوپری دودھ پینے والے بچوں کو اگر دودھ میں جؤ کا پانی ملا کر دیا جائے تو ان کی آنتیں زیادہ تنومند رہتی ہیں۔ مثانہ اور پیشاب کی سوزش میں جؤ کے پانی میں صمغ عربی (کیکر کی گوند) کا سفوف شامل کر کے پلایا جائے تو پیشاب کی جلن کو جلد آرام آ جاتا ہے۔ 

جدید مشاہدات:  
احادیث مبارکہ میں جؤ کے فوائد کی روشنی میں معدہ و آنتوں کے السر کے مریضوں کو تلبینہ دیا گیا۔ السر کا ہر مریض دو سے تین ماہ میں درست ہو گیا۔ جب کہ بہترین علاج کے ذریعے یہ علاج دو سال سے کم عرصہ میں ممکن نہ تھا۔
پیشاب میں خون آور پیپ کے مریضوں میں وجہ چاہے کچھ بھی ہو مناسب علاج کے لیے جؤ کا پانی اگر شہد میں ڈال کر پلایا جائے تو یہ تکلیف پندرہ روز میں ختم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات گردے سے پتھری خارج ہو جاتی ہے۔ پرانی قبض کے لیے جؤ کے دلیہ سے بہتر محفوظ کوئی اور دوا نہیں دیکھی گئی۔ 

مضر و مصلح جؤ 
سرد مزاج والوں کو مضر ہے، جؤ نفخ پیدا کرتا ہے۔ گھی اور مکھن، شکر، مصری اور گوشت کا شوربہ اس کی اصلاح کرتے ہیں۔ جؤ کو ہمیشہ کھاتے رہنے سے پیٹ میں مروڑ اور ریاح پیدا ہوتے ہیں۔ گرم مصالحہ سے اس کی اصلاح ہوتی ہے۔ 

بدل:   
جؤ  کا بدل مونگ ہے۔ 

وٹامن ’’سی‘‘ کا خزانہ:   
جؤ کو پانی سے نم دیں تو وہ پھوٹتے اور اگتے ہیں۔ اس وقت انہیں بھاڑ یا بھٹی میں خشک کر لیا جائے تو ان میں وافر مقدار میں وٹامن ’’سی‘‘ پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ پھوٹے ہوئے جؤ زود ہضم اور مقوی ہوتے ہیں۔ 

جؤ کا ستو: 
گیہوں یا جؤ کو صاف کر کے پانی میں بھگو دیا جاتا ہے اور دھوپ میں خشک کر کے بریاں کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو پیس کر استعمال کرتے ہیں۔ طبی حوالے سے یہ ایک معتدل غذا ہے۔ سریع الہضم ہے۔ مسکن حرارت ہے۔ آج کے دور میں لوگ آٹا چھان کر روٹی پکاتے ہیں اور بھوسی ضائع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معدہ اور نظام ہضم کی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہی بھوسی بغیر چھنے کی شکل میں ستو کا نعم البدل ہے۔
حضور اکرمe کا دستور تھا کہ آپe بغیر چھنے آٹے کو ستو کی شکل میں نوش فرماتے تھے۔ غزوات میں ستو کے استعمال کی بکثرت روایات ملتی ہیں۔ بلوغ المرام میں مرقوم ہے کہ اہل عرب بغیر چھنے آٹے کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے اور اس کا استعمال مختلف شکلوں میں کرتے تھے۔ ان کھانوں کی مختلف تراکیب ہیں۔ چند نام و ترکیب استعمال نقل کیے جا رہے ہیں:
غذیرہ:ـ  جؤ  کے آٹے کے اوپر دودھ دوہا جاتا اور پھر گرم پتھروں پر رکھ کر پکا لیا جاتا تھا۔
حریقہ:  جؤ کے آٹے کو پانی یا تازہ دودھ میں گوندھ کر قدرے کھجور کی مٹھاس ڈال کر گاڑھا پی لیا جاتا تھا۔
رعیثہ:  جؤ کے آٹے کو شیرے میں ملا کر پکایا جاتا تھا۔
تلبینہ :  جؤ کے آٹے یا گندم کی بھوسی اور شہد ملا کر تیار کیا جاتا تھا۔ مگر متفرق روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تلبینہ یا گیہوں کو دَل کر دودھ میں پکایا جاتا تھا۔ جو بیماروں کو کھانے کے لیے بطور خاص دیا جاتا تھا۔
الغرض بغیر چھنا روٹی کی شکل میں یا ستو کی شکل میں، حضور اکرمe نے تمام زندگی استعمال فرمایا اور اسی طرح استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی۔ جس کے متعلق اطباء جدید اور بسیار تحقیق لائے اور پھر اس کے فوائد بیان کیے۔
مصور ہربل ہینڈ بک کی مصنفہ جو لیٹ وے، پیراکلی لیوی نے لکھا ہے کہ دوائی خواص کا حامل اناج ہے، خون کے جوش کو کم کرتا ہے اور اندرونی اعضاء کو مفید ہے۔ خاص طور پر گردوں پر اچھا اثر کرتا ہے، گردوں اور مثانہ کی عام تکلیفوں کے علاوہ یہ بیماروں اور شیر خوار بچوں کی غذا ہے، اس کا کہنا ہے کہ جؤ کو ابال کر نچوڑ لیا جائے اور لیموں کا رس ملا کر استعمال کیا جائے۔ ماڈرن انسائیکلو پیڈیا الف ہریز کے مصنف کا کہنا ہے کہ بیماری سے اٹھنے والوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ انہوں نے بھی اب جؤ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

ذہانت تیز کرنے والی غذائیں

ذہانت قدرتی ہوتی ہے۔ اگر دماغ صحت مند اور کسی قسم کی دماغی پیچیدگی نہ ہو تو دماغ کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔ البتہ علم وہنر سے اسے مزید چمکایا جا سکتا ہے۔ بلا شک ذہانت قدرتی اور پیدائشی ہوتی ہے اور اسے عطیہ خداوندی قرار دینا چاہیے۔ تا ہم اس کا صحت مند جسم اور غذا سے گہرا تعلق ہے۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کا مالک ہوتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ صحت سے عاری شخص صحت مند دماغ کا مالک ہو۔ صحت مند دماغ اور صحت مند جسم کے لیے صحیح غذا کا ہونا ضروری ہے۔ اگر غذا صحیح اور متوازن نہ ہو تو انسان دماغی اور جسمانی طور پر کمزور ہوجاتا ہے جس کے اثرات ذہانت پر بھی ہوتے ہیں اور سارا جسمانی نظام متاثر ہوتا ہے۔
آج کے دور میں طرز زندگی اور غذائی عادات کی تبدیلیوں نے انسانی صحت اور دماغ کو متاثر کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ذہنی استعداد کار یا ذہانت متاثر ہو رہی ہے۔ نسیان یا یادداشت میں کمی جیسے عوارضات بڑھ رہے ہیں۔ طب وصحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ بعض غذائیں دماغی قوتوں کو توانا رکھتی ہیں جس سے ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کو ایسی مفید غذائیں دیتی ہیں اس سے ان کی صحت ہی بہتر نہیں رہتی بلکہ ان کی ذہنی صلاحیتیں اور دماغی استعداد کار اپنے ہم عمر ساتھیوں سے بڑھ جاتی ہے۔ پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیمی کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے آئی کیو کو معیار بنایا جا رہا ہے۔ یعنی قابلیت اور اہلیت کو ذہانت کی پیمائش کے ذریعے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ذہنی صحت اور جسمانی صحت کی طرف توجہ دینا انتہائی اہم ہے۔
بڑھاپے کے مسائل میں یاد داشت کی کمی (الزائمر) عام مسئلہ بن گئی ہے۔ اس طرح وہ تمام لوگ جو ذہانت کو قائم اور یاد داشت کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں انہیں دماغی طاقت کی طرف توجہ دینا ہو گی۔
ماہرین طب وصحت کا کہنا ہے کہ صحت مند جسم میں جب گردش خون (خون کا دورہ) باقاعدہ ہوتا ہے تو جسم اس کے ذریعے غذائیں دماغ کے سامنے پیش کرتا ہے جن میں سے دماغ اپنی ضرورت کی غذائیں منتخب کر لیتا ہے۔ مگر جب دوران خون یعنی خون کا دورہ باقاعدہ نہ ہو تو دماغ کو اس کی ضرورت کے مطابق غذا نہیں ملتی جس کے نتیجے میں دماغ ضعف کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں دماغی کمزوری کے سبب یاد داشت میں کمی ہونے لگتی ہے۔
انسانی زندگی میں بچپن سے نوجوانی کی طرف گامزن ہوتے ہوئے مناسب غذا کا استعمال بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ بڑا اہم دور ہوتا ہے جب غذا کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں غذائی کمی کے سبب خون کی کمی ہو سکتی ہے جس سے گردش خون میں فرق آئے گا اور جسم کا اعصابی نظام شکست وریخت کا شکار ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے دیکھا گیا ہے کہ اکثر بچے جو بچپن میں صحت مند وتوانا ہوتے ہیں نوجوانی میں خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے جسمانی طور پر کمزوری ہو جاتی ہے اور پھر دماغی طور پر صحت مند نہیں رہتے‘ ان کی یاد داشت متاثر ہوتی ہے اور آئی کیو لیول کم ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دماغی یاد داشت بہتر بنانے کے لیے ادویہ کی بجائے غذائی اشیاء پر توجہ دینا چاہیے۔ ماہرین طب وصحت کا کہنا ہے کہ فاسفورس دماغی طاقت کے لیے بہت اہم ہے۔ لہٰذا ایسی غذائی استعمال کرنا چاہئیں جن میں فاسفورس اور لحمیات کی مقدار زیادہ ہو۔ ایسی غذاؤں میں مچھلی کا گوشت سرفہرست ہے کیونکہ مچھلی میں فاسفورس بکثرت ہوتا ہے۔ اسی طرح انڈا‘ دودھ‘ مکھن اور بادام بھی مفید ہیں۔ مغزیات‘ پستہ‘ اخروٹ‘ کشمش‘ اور پنیر کے علاوہ چنے‘ مٹر اور سویا بین دماغ کے لیے مفید ہیں۔ فاسفورس کے علاوہ وہ سب اجزاء ہوتے ہیں جو اعصاب اور عضلات کو توانائی دیتے ہیں۔ ہلکی زود ہضم غذائیں دماغ کو ترو وتازہ اور بیدار رکھتی ہیں۔ سرخ گوشت سے بچ کر رہیں۔ درج ذیل غذاؤں کا استعمال دماغ کو تقویت دیتا ہے‘ اسی طرح ذہانت بھی بڑھتی ہے۔

بادام:  
بادام مغزیات میں سرفہرست ہے۔ یہ ایک مفید صحت بخش غذا ہے جو دماغ اور اعصاب کو قوت دیتی ہے۔ بینائی میں بھی فائدہ مند ہے۔ روزانہ پانچ سے سات بادام‘ رات پانی میں بھگو کر صبح چھیل کر دودھ کے ساتھ کھانا چاہئیں۔ ان کا مسلسل استعمال دماغی کمزوری سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ بادام کی پانچ چھ عدد مغز گرائنڈ کر کے پیس لیں اور دودھ حسب ضرورت میٹھا کر کے اس میں ملا کر روزانہ صبح پی لیا کریں۔

دودھ:  
دودھ ایک مکمل غذا ہے‘ ہر عمر کے افرد کے لیے یکساں مفید ہے۔ انسان صدیوں سے گائے‘ بھینس‘ بکری‘ اونٹنی اور بھیڑ کا دودھ بطور غذا استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ دودھ میں تمام صحت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں۔ دودھ جسمانی طاقت اور دماغی کمزوری کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ دودھ روزانہ صبح یا سہ پہر شہد خالص ملا کر پینا چاہیے اور ہمیشہ باقاعدگی سے پینا چاہیے۔

سیب:  
سیب‘ دنیا بھر میں ملنے والا اور پھلوں میں سب سے زیادہ توانائی بخش ہے۔ تمام عمر کے لوگ کھا سکتے ہیں۔ سیب میں فاسفورس تمام پھلوں سے زیادہ پایا جاتا ہے اور چھلکوں میں حیاتین ’’ج‘‘ کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ سیب خون صالح پیدا کرتا ہے۔ دماغ کے لیے ایک مؤثر غذائی ٹانک ہے۔ قوت حافظہ بڑھاتا ہے۔ سیب میں پائے جانے والا ایک ایسڈ جگر‘ دماغ اور آنتوں کے لیی بہت مفید ہے۔ کمزور دماغئ اعصاب اور قلب لوگوں کے لیے بہت مفید ہے۔

آملہ:  
غذائی اور دوائی افادیت رکھتا ہے۔ دماغ کو تقویت دیتا ہے اور یاد داشت بڑھاتا ہے۔ اطباء صدیوں سے اپنی ادویہ میں استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ حیاتین ’ج‘ آملہ میں بکثرت موجود ہوتی ہیں۔ خشک آملوں کا سفوس بنا لیں اور برابر وزن شکر ملا لیں‘ روزانہ ایک سے دو چمچہ تازہ پانی سے کھانا مفید ہے۔ آملہ کا مربہ بھی بنایا جاتا ہے جو دماغی طاقت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس طرح بصارت پر بھی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ تازہ آملہ کا ایک چمچہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بیر:  
بظاہر یہ ایک چھوٹا سا پھل ہے مگر ضروری غذائی اجزاء سے بھر پور ہے۔ ایک سو گرام بیروں میں 74 کیولریز(حرارے) ہوتے ہیں۔ بیر جسم میں گلو ٹاسک ایسڈ کا اخراج بڑھا دیتا ہے۔ اس طرح دوران خون تیز ہو کر دماغ کی کارکردگی بڑھا دیتا ہے۔ بیر استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مٹھی بھر بیر خشک آدھے لیٹر پانی میں اس وقت تک ابالیں کہ پانی نصف رہ جائے پھر ضرورت کے مطابق شہد ملا کر رات سونے سے قبل پی لیا جائے۔

کالی مرچ:  
کالی مرچ کو مصالحوں کی ملکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اعصاب کی طاقت کے لیے ٹانک کا درجہ رکھتی ہے۔ یاد داشت کو بہتر بنانے میں بہت مفید ہے۔ چٹکی بھر کالی مرچ کا سفوف شہد خالص ایک چمچ میں ملا کر روزانہ چاٹ لینا کمزور دماغ والوں کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی