Friday, 9 December 2016

الرجی

جن چیزوں کو جدید تحقیقات سے موسوم کیا جاتا ہے ان میں ایک الرجی (ALLERGY) ہے۔ الرجی ایک ایلوپیتھی اصطلاح ہے جس کا اردو ترجمہ زود حسی کیا جا سکتا ہے۔ الرجی کسی فرد کو کسی خاص چیز سے حساسیّت ہے یعنی بعض لوگوں کو بعض چیزیں ناموافق ہوتی ہیں اور ان کے استعمال سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ حالانکہ دیگر افراد کے لیے وہ کسی نقصان کا باعث نہیں ہوتیں اور ان چیزوں میں بھی کوئی خرابی نہیں ہوتی بلکہ یہی چیزیں دوسرے افراد کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر انڈا جو غذائیت سے بھرپور اور اکثر لوگوں کے لیے مفید ہے مگر بعض لوگوں کو انڈا کھانے سے دمہ کی سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تپ کا ہی جو زرگل سے حساسیت کے سبب ہو جاتا ہے اس کی مثال ہے۔ مزید ایگزیما، جسم پر دھپڑ، نزلہ، زکام، چھینکیں، سوجن و دیگر بہت سی شکایات الرجی کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ الرجی جسم کے کسی بھی حصے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر ایک صاحب کو ائیر کنڈیشنر سے الرجی ہے، وہ باہر صحت مند رہتے ہیں مگر دفتر پہنچتے ہی ائیر کنڈیشنر کا ماحول ان کو نزلہ زکام میں گھیر لیتا ہے اور ناک سے پانی بہتا ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ جو سڑک پر آنے سے گردوغبار کے باعث چھینکوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ناک سے پانی آنے لگتا ہے۔
الرجی کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ ہم اکثر اوقات بعض ناپسندیدہ باتیں سننے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے جسم میں اشتعال پیدا ہوتا ہے لیکن ہم اس ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کر سکتے۔ اس سے جسم میں گھٹن اور انتقامی جذبہ ابھرتا ہے اور ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ اس سے جسم میں ہسٹامین (Histamine) نامی کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے جو الرجی میں شدت کا باعث بنتا ہے اور آہستہ آہستہ ایسے لوگ اس قدر زود حِس ہو جاتے ہیں کہ معمولی سے معمولی بات الرجی کا باعث بن جاتی ہے۔ الرجی کو خلاف مزاج کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شے میرے موافق نہیں، یہی ناموافقت الرجی ہے۔ الرجی کی اصطلاح نے وباء کی سی صورت اختیار کر لی ہے اور اس کا موقع بہ موقع استعمال ماڈرن ہونے کا مظہر بن گیا ہے، کسی قسم کی تکلیف ہوئی فوراً کہہ دیا الرجی ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ الرجی الرجن یعنی حساسیت پیدا کرنے والی اشیاء کا ردعمل ہوتی ہے۔ الرجن ایسی اشیاء کو کہا جاتا ہے جن سے کوئی شخص حساس ہوتا ہے۔ عام الرجن میں مختلف اشیاء زرگل، حشراب الارض یعنی کیڑے مکوڑوں کا کاٹنا یا جلد پر ملا جانا، ان کے بال، بعض اشیاء کا استعمال یا ان کی خوشبو، گردوغبار کی دھونس، کیمیائی اجزائ، بعض دھاتیں اور بعض غذائیں جن میں انڈا، مچھلی، گوبھی، پالک اور آلو شامل ہیں۔ سب سے زیادہ عام الرجن مکانات کی گرد جو چادروں، پردوں، قالینوں میں ہوتی ہے اس سے حساس فرد کو چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، فضائل آلودگی بھی عام الرجن ہے۔ کچھ لوگوں کو گرمی اور ٹھنڈک سے الرجی ہوتی ہے۔ جب ان کا ہاتھ ٹھنڈے یا گرم پانی میں جاتا ہے تو سوج جاتا ہے۔ الرجی ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء سے بھی ہو سکتی ہے۔
بعض لوگ مختلف رنگوں سے الرجک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کی ملکہ الزبتھ سرخ رنگ سے الرجک تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس تقریب میں انہیں جانا ہو وہاں اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کوئی چیز سرخ نہ ہو یہاں تک کہ گلاب کی سرخ پتیاں تک نچھاور نہ کی جائیں۔ 1960ء میں جب وہ پاکستان کے دورے پر آئیں تو جن راستوں سے ان کو گزرنا تھا ان راستوں سے سرخ عمارتوں کا رنگ تبدیل کر دیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ گلاب کی پتیاں نہ نچھاور کریں۔
الرجی سے ہمارا واسطہ مختلف ذرائع مثلاً غذا، سانس اور جلد کے ذریعے ہوتا ہے۔ الرجی کی علامات عام طور پر ان حصوں پر ظاہر ہوتی ہیں جو مرض سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں مثلاً زرگل کا زیادہ اثر ناک، آنکھ اور سانس کی نالی پر ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء سے الرجی کی صورت میں ہونٹ سوج جاتے ہیں، معدہ خراب ہوتا ہے اور جسم پر دھپڑ بن جاتے ہیں۔ دھاتی اشیاء سے الرجی کی صورت میں جلد متاثر ہوتی ہے اور چکنے پڑ جاتے ہیں۔ اگر غذا میں الرجن شامل ہو جائے تو دمہ یا ایگزیما وغیرہ ہو جاتے ہیں۔ الرجی کی ایک صورت دھاتی زیورات ہیں، ایسی صورت میں جلد پر چھالے پڑ جاتے ہیں اور خارش ہوتی ہے۔ آنکھوں میں الرجی کی صورت میں آنکھوں کے سفیدے میں خارش اور جلن ہوتی ہے اور پانی بہتا ہے۔ الرجی کے مریض بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سبھی ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اسے نازک مزاجی کہہ کر ٹال دیتے ہیں مگر یہ ایک مرض ہے جو شاعری کی طرح انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ الرجی کا شکار لوگوں کو الرجک کہتے ہیں۔ 

اسباب:
اس کا جواب ہنوز نہیں مل سکا کہ بعض لوگوں کو بعض اشیاء سے الرجی کیوں ہوتی ہے تاہم اس حوالے سے جسم کا دفاعی نظام خاص کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دفاعی نظام ضد اجسام (Anti Body) پیدا کرتا ہے اور بیرونی اجزاء سے مقابلہ کرتا ہے، اس کے علاوہ مختلف افراد میں وجوہ مختلف ہوتی ہیں۔

علاج:
(Anti Allergy) (انٹی الرجی) ادویہ وقتی سکون دیتی ہیں، یہ علاج نہیں بلکہ مرض سے سکون کی تدابیر ہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ الرجن حساسیہ سے بچا جائے‘ اگر الرجی ہو جائے تو غذا کا تجزیہ کیا جائے، غذا میں حسائیت کے لیے معروف اشیاء ایک ایک کر کے ترک کر دیں، اس طرح اندازہ ہو جائے گا کہ کس چیز سے الرجی ہے۔
الرجی کا مرض آئے روز بڑھ رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ نقص تغذئیہ، فضائی آلودگی، ذہنی دبائو کے باعث جسم کے مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام یعنی قوت حیات (Vital Forcer) کو مضبوط کیا جائے اور صحیح تدابیر اسی وقت ممکن ہیں جب الرجک کی الرجن کا صحیح اندازہ ہو جائے۔ نیز اس امر کی کوشش کی جائے کہ جسم کے ان اعضاء معدہ و جگر کی اصلاح کا اہتمام کیا جائے جو کسی چیز کو صحیح قبول نہیں کرتے اور الرجی ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان اشیاء میں کوئی نقص نہیں ہوتا بلکہ جسم میں ایسا کوئی نقص ہوتا ہے جس سے الرجی ہوتی ہے۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

ملٹھی ... ایک لا جواب دوا

ملٹھی طب میں صدیوں سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اسے پیٹ کے امراض خصوصاً معدے اور آنت کے زخم (السر) کے لیے بہت مفید خیال کیا جاتا ہے۔ یہ کھانسی کا بھی ایک آزمودہ روایتی علاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب موسم سرما  میں شدت کی سردی ہوتی ہے تو خشک اور سرد ہواؤں کی وجہ سے گلے میں خراش اور کھانسی ہونے لگتی ہے تو ملٹھی کا سفوف پان میں ملا کر اس کی پیک کو نگل لیا جاتا ہے۔ ملٹھی کا اصل جز گلائی کون کہلاتا ہے۔ جب کہ طب میں اس کا ست رُبّ کہلاتا ہے۔ اس لیے یہ ست رُبّ السوس کہلاتا ہے۔ کھانسی کے لیے یہ بہت مفید ہے‘ اس لیے یہ ست کھانسی کے شربت میں خوب استعمال ہوتا ہے۔ یہ حلق کو تر اور نرم کرتی اور بلغم کا اخراج کرتی ہے۔
ملٹھی کو عربی زبان میں اصل السوس‘ سندھی میں مٹھی کاٹھی یعنی میٹھی لکڑی‘ فارسی میں بیخ مہک جبکہ انگریزی میں لکورس (Licorice) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک پودے کی جڑ ہے جو زمین میں گہرائی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کا پودا چار فٹ تک بلند ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے پھول نیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور رومی آب وہوا کے خطے میں  پیدا ہوتا ہے۔ اس کی زرد رنگ جڑ شکر سے پچاس گنا زیادہ میٹھی ہوتی ہے۔ چین‘ روس اور بحیرہ روم کے ممالک میں اس کی کاشت طویل عرصے سے ہو رہی ہے۔ اسپین میں اس کا ست تیار کیا جاتا ہے جسے عمدہ خیال کیا جاتا ہے۔ اب فیصل آباد میں بھی اس کی کاشت ہو رہی ہے۔ یورپ‘ چین اور انگلستان میں بھی اس کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ان ممالک میں ملٹھی کا سفوف دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف معدہ اور دانتوں کی سوزش اور زخم دور ہوتے ہیں بلکہ آنتوں کی حرکت تیز ہو کر قبض ختم ہوتی ہے۔ چین میں اس کا شمار بہت مؤثر نباتاتی اور ادویہ میں ہوتا ہے۔ ماہرین طب اسے گلے کی خراش اور کھانسی کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ چین کے شمالی علاقوں میں ملٹھی اور اس کے مرکبات کو مفید شباب آور ٹانک سمجھتے ہیں۔
طب یونانی میں ملٹھی کا استعمال صدیوں سے ہو رہا ہے۔ طب یونانی کے ماہرین اسے استعمال کرنے سے قبل چھیلنے کی ہدایت کرتے ہیں کیونکہ اس کے مطابق سانپ اس پر اپنا پھن رگڑتا ہے۔ اسے چھیل کر استعمال کرنے سے گویا اوپر کی چھال اتر جاتی ہے اور اس طرح اس کے زہر آلود ہونے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ ملٹھی کا ذائقہ میٹھا بلکہ بہت میٹھا ہوتا ہے۔ اسے بہ طور مٹھاس زیادہ مقدار میں استعمال نہیں کرنا چاہیے‘ اس کی یہ مٹھاس گلیسرہیزین نامی جوہر کی وجہ سے ہے۔ جڑ میں یہ مٹھاس چھ سے آٹھ فیصد تک ہوتا ہے اور الگ کرنے پر سفید چمک دار سفوف کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس سفوف میں کیلشیم اور گلیسرہیزک ایسڈ‘ پوٹاشیم اور نمک موجود ہوتا ہے۔ ملٹھی میں شکر‘ نشاستہ ۲۹ فیصد گوند پروٹین اور چکنائی کے علاوہ ٹے نین بھی ہوتا ہے جو زیادہ تر جڑ کی چھال میں ہوتا ہے۔ اس میں فراری تیل کے علاوہ زرد رنگین مادہ بھی ہوتا ہے۔
طب واطباء کے نزدیک ملٹھی مسکن‘ ملین یعنی سکون آور‘ قبض کشا اور پیشاب آور خصوصیت کی حامل ہے۔ کھانسی میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔ یہ بلغم کو اعتدال کے ساتھ پتلا کر کے اخراج کرتی ہے۔ عضلات پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے اور حلق کی خشکی دور کر کے تر کرتی ہے۔ سینے سے بلغم کا اخراج کرتی ہے۔
کئی مغربی ممالک میں اسے گلے کی خراش اور کھانسی کے لیے السی کے ساتھ جوش دے کر بطور چائے پیا جاتا ہے۔ یورپ میں نباتاتی علاج کے معالج اسے آنتوں کی سوزش اور زخم کے ساتھ بطور پیشاب آور استعمال کرتے ہیں اور نزلی رطوبت کے اخراج کے لیے مفید خیال کرتے ہیں۔ لندن (انگلستان) کے معروف نباتاتی معالج ڈاکٹر میلون کا یہ نسخہ کھانسی کے لیے بہت شہرت رکھتا ہے۔
السی کے بیج        ۱۲ گرام
ملٹھی        ۲۵ گرام
عمدہ کشمش        ۱۲۰ گرام
اور تازہ پانی        ۲ لیٹر
تمام اجزاء پانی میں ڈال کر دھیمی آنچ پر ڈھک کر اتنا پکائیں کہ پانی کی مقدار نصف رہ جائے‘ اب اس میں اچھی قسم کا گڑ ۵۰۰ گرام شامل کر کے چھان کر قوام درست کر لیں۔ رات سونے سے قبل ایک پیالی گرم پانی میں یہ شربت چار چمچے ملا کر تھوڑا تھوڑا چسکی لے کر پئیں۔ کھانسی کی شکایت رفع ہو جائے گی۔
ایک امریکی نباتاتی معالج ڈاکٹر جیمس ڈیوک کے مطابق ملٹھی میں معدے اور آنتوں کے زخم ٹھیک کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سرطان دور کرنے کی بھی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ امریکہ کے سرطان پر تحقیقی ادارے بھی ملٹھی کو اپنی تحقیق میں شامل کر رکھا ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس کا اہم جز ٹرائی رٹر پناڈز (Reritependids) سرطان کا مفید علاج ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں پروسٹاگلینڈین کی تیاری کا سلسلہ روک دیتے ہیں۔ پروسٹاگلینڈین ہارمون جیسے شحیمی الیڈ (Fatty Acid) ہوتے ہیں جو سرطانی خلیات بننے کا عمل تیز کر دیتے ہیں۔ ملٹھی کا جز جسم پر سرطان کا سبب بننے والے اجزا کا حملہ روک سکتے ہیں۔ تحقیق کے نتیجے میں ان اجزاء کی ان خاصیتوں کا اندازہ ہوا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملٹھی کا استعمال کم مقدار میں کرنا چاہیے۔ خصوصا بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس کے استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر اور قلب کے امراض میں مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کیونکہ ملٹھی میں تحقیق کاروں کے مطابق کیمیائی جوہرگلیسرہیزن کی زیادتی سے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار کم اور سوڈیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے پوٹاشیم کم ہونے سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
استاد محترم شہید پاکستان حکیم محمد سعید معدے اور آنتوں کے زخم کے لیے اصل السوس سائیدہ ہمراہ شربت بادیان دو چمچ صبح نہار منہ استعمال کراتے تھے اور اس کے مفید نتائج سامنے آئے۔ اس کے بعد اسے سوسی کے مرکب کے نام سے ہمدرد نے بنایا ہے جو شربت بادیان کے ساتھ صبح نہار منہ استعمال سے فائدہ مند ہے۔
.
تحریر:  جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

جلد .... انسانی صحت کا آئینہ ہوتی ہے

ہماری جلد (Skin) ہماری صحت کا آئینہ ہے۔ اس سے ہی صحت کے درست ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ سرخ گال، نرم چمک دار اور صاف شفاف جلد ہماری صحت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جلد سے انسانی شخصیت کا وقار، چمک دمک اور سنگھار کا گہرا تعلق ہے۔ میلی، پژمردہ، جھریوں بھری جلد صحت و توانائی کی کمی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ خاص طور پر چہرہ کی جلد کا ہماری صحت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ طب و صحت کے ماہرین مریض کے چہرے کی رنگت دیکھ کر مرض کی نوعیت اور شدت کا اندازہ کر لیتے ہیں۔ یہ محاورہ عام طور پر بولا جاتا ہے کہ مریض کی رنگت زرد پڑ گئی ہے۔ جلد بعض خاص علامت کو ظاہر کرتی ہے مثلاً اس کا پیلا پن، نیل گوں یا سفید ہو جانا حالت مرض کو بیان کرتا ہے۔ بوڑھے لوگوں میں چہرے اور ہاتھوں پر جھریاں پڑ جاتی ہیں جو ان کے بڑھاپے کو ظاہر کرتی ہیں۔ جلد اور رنگت کی ساخت سے عمر کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ چہرے کی جلد کے نکھار کے لئے ہر دور میں جتن ہوئے ہیں۔ سنگھار کا مقصد چہرے کی جلد اور کشش میں اضافہ ہے۔ ہر شخص کی آرزو ہوتی ہے کہ وہ چہرے کی جلد نکھارے اور حسن و کشش کو محفوظ رکھے۔ جلد صحت مند، خوبصورت اور نکھار والی ہو تو عمر کا بھی اندازہ نہیں ہوتا بلکہ انسان اپنی عمر سے بھی کم عمر نظر آتا ہے۔ جو لوگ جلد کی حفاظت نہیں کرتے وہ حسن و دلکشی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکہ میں عوام کی بہت بڑی اکثریت سب سے زیادہ جلد کی آرائش و زیبائش کی طرف توجہ دیتی ہے مگر وہ اس لئے ناکام ہیں کہ وہ فطری طرز اختیار کرنے کی بجائے مصنوعی طریقوں سے حسن و کشش حاصل کرنے کے لیے فوڈ اسکن اور کریموں کا استعمال کرتے ہیں۔ جلد ہمارے جسم کی کھال ہے، جسے جسم کا غلاف بھی کہا جا سکتا ہے جو جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ جس کا رقبہ 17 مربع فٹ اور وزن تقریباً 5سے 6 پونڈ تک ہوتا ہے۔ یہ پتلی ہونے کے سبب بہت ہلکی لگتی ہے۔ لیکن یہ ایک ایسی مستحکم دیوار ہے جو ہمیں بقیہ دنیا سے الگ رکھتی ہے۔ یہ ایک بند تھیلا ہے جو ان رسوں اور مادوں سے بھرا پڑا ہے جس سے ہماری ذات کی تشکیل ہوتی ہے۔ ہم اسے جسم کی حفاظتی خندق کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ جلد کا سب سے اہم کام جسم کے قلعہ میں سیال مادوں کا تحفظ اور بیرونی مضر اشیاء کو اندر جانے سے روکنا ہے۔ یہ کیڑوں، زہروں اور جراثیم کو اندر داخل ہونے سے روکتی ہے اور جسم کے پانی کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ جسم کی بہت حساس سرحد ہے۔ اس کے نیچے انتہائی پیچیدہ اعصابی نظام کام کرتا ہے جو دبائو، درد، سردی اور گرمی کی خبر دماغ کو پہنچاتا ہے۔ ناخن اور بال بھی اس کا حصہ ہیں۔ ہمارے بال ہماری جلد میں پوشید چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں کی پیداوار ہیں۔ جنہیں ہم اصطلاحاً بالوں کے غدود کہہ سکتے ہیں اور ہر غدود ایک بال تیار کرتا ہے۔ آپ اپنے ہاتھ کی پشت پر اُگے ہوئے بالوں کے سروں کو بس ذرا چھو لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ کس قدر حساس ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بال کی جڑ میں کئی نازک اعصابی سرے موجود ہیں۔ بالوں کی جڑوں میں بعض غدود روغنی ہوتے ہیں جس سے بال چکنے رہتے ہیں۔ یہ روغن انہی کے ذریعے جب جلد پر آتا ہے تو جلد چکنی ہو جاتی ہے۔ جلد کا ایک اہم کام چھونے کا احساس فراہم کرنا ہے۔ جلد میں پوشیدہ اعصاب جس کے ننھے ننھے سرے مختلف قسم کے پیغامات ہمارے دماغ کو پہنچاتے ہیں۔ اس طرح اس کا ایک تیسرا اہم کام جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا ہے۔ جلد یہ کام اپنی نچلی سطح میں واقع خون کی رگوں اور نالیوں کو حسب ضرورت پھیلا کر یا انہیں سکیڑ کر انجام دیتی ہے۔ ہماری جلد کے اندر چربی کی تہہ کے نیچے رگوں، نالیوں اور عروق شعریہ کا وسیع جال ہے۔ یہ ایک نظام کے ذریعے سے خون کی ایک بڑی مقدار جلد کے نیچے بوقت ضرورت گشت کر کے جلد کی سطح کو سرد رکھتی ہے۔
جب یہ نظام سکڑتا ہے تو پھر پوری جلد میں دو اونس خون فی منٹ کے حساب سے گردش کرتا ہے اور رگوں کے پھیلنے کی صورت میں گردش میں سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ فطرت نے ضرورت سے زیادہ خون کو سرد کرنے کے لیے بھی نظام وضع کر رکھا ہے۔ جس کے تحت جب گرم خون رگوں کے پھندے میں رُکتا ہے تو جلد پر آنے والا پسینہ ہوا میں تحلیل اور ٹھنڈا ہو کر جلد کو سرد کر دیتا ہے۔ اس سارے نظام کو دماغ میں موجود ایک مرکز جو مٹر کے دانے برابر ہے کنٹرول کرتا ہے۔ یہ لوتھڑا تین اعصابی مراکز کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان میں سے ایک حرارت کو محسوس کرتا ہے۔ دوسرا حرارت کا اخراج کرتا اور تیسرا حرارت میں اضافہ کرتا ہے۔ حرارت کی کمی یا اخراج کا مرکز جب جلد کو پھیلنے کا حکم دیتا ہے تو اس کی وجہ سے رگیں پھیل جاتی ہیں۔ پسینہ خارج ہونے لگتا ہے اور اعصابی تنائو میں کمی ہو جاتی ہے۔ جب یہ مرکز رگوں کو سکڑنے کا حکم دیتا ہے تو کپکپاہٹ شروع ہو کر پسینہ ختم ہو جاتا ہے اور استحالہ جسم Metabolism میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ہماری جلد تین پرتوں پر مشتمل ہے۔ بیرونی، حقیقی اور اندرونی۔ بیرونی سطح پر تین پرتیں ہوتی ہیں‘ اوپری کھردری پرت جس کے مردہ خلیات جھڑتے رہتے ہیں اور نئے بنتے رہتے ہیں۔ اس کے نیچے حقیقی جلد ہوتی ہے جو مضبوط ریشوں اور زندہ خلیات پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں خون کی لاکھوں باریک رگیں، لمفاوی غدود یا اعصابی سرے ہوتے ہیں۔ پسینے کے غدود کی تعداد دو سے تین تک ہوتی ہے۔ ان کی سب سے زیادہ تعداد بغل، ہاتھوں، پیروں اور پیشانی پر ہوتی ہے۔ یہ غدود خون کی باریک نالیوں سے پانی، نمک اور ردی مواد کھینچ کر مسامات کے راستے بیرونی سطح پر جمع کرتے ہیں جسے ہم پسینہ کہتے ہیں۔ گرمی میں یہی پسینہ ہوا سے خشک ہو کر ٹھنڈک کا احساس دیتا ہے اور اس طرح جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک نہیں پہنچتا۔
جلد ایک انتہائی حساس عضو ہے‘ اس کی حفاظت ہمارے لئے ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف صحت کی بقا ہے بلکہ انسانی شخصیت کی وجاہت اور چمک دمک کا بھی تعلق ہے۔ میلی کچیلی، جھریوں سے بھرپور جلد صحت و توانائی کی کمی کی داستان بیان کرتی ہے۔ خصوصاً چہرے کی جلد کا انسانی شخصیت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اس لئے انسان ہمیشہ چہرے کی جلد پر متوجہ رہا ہے۔ سنگھار کا مقصد چہرے کی جلد کو شاداب اور خوبصورت بنانا ہے۔ چہرہ کی خوبصورت جلد انسان کو کم عمر ظاہر کرتی ہے۔ جو لوگ جلد کی حفاظت نہیں کرتے وہ حسن و کشش سے محروم ہو جاتے ہیں۔ جلد کی حفاظت کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ فطرت کے قریب زندگی گزارئیے۔ کھلی اور آزاد فضا میں ہلکی پھلکی ورزش یا سیر کریں۔
متوازن غذا استعمال کریں‘ فطرت کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھائیے۔ دودھ، پھل اور سبزیاں اپنی غذائوں میں زیادہ رکھیں۔ تمباکو، نشہ اور اشیائ، روغنی اور چکنائی دار اشیاء کا استعمال توازن سے کریں۔ جلد کو کم سے کم چھیڑا جائے اور اس کی صفائی کا اہتمام کیا جائے۔ آج کل صابن کا استعمال لازمی خیال کیا جاتا ہے حالانکہ یہ مضر ہے، خصوصاً خوشبودار اور تیز صابن جن میں کیمیائی اجزاء ہوتے ہیں۔ لوگ جھاگ بنا کر دیر تک ملتے رہتے ہیں جس سے جھاگ جلد میں پہنچ کر نقصان کا سبب ہوتی ہے۔ مناسب راہ عمل یہ ہے کہ صابن لگا کر منہ دھویا جائے، رگڑا نہ جائے۔ اگر جلد خشک ہے تو گلیسرین کا استعمال کیا جائے۔ پانچ وقت وضو میں منہ دھونا مفید ہے۔
آج کل بازار میں جلدی غذا/ اسکن فوڈ کے نام سے ادویہ ملتی ہیں لوگ خیال کرتے ہیں۔ اس سے جلد کو غذا ملتی ہے ایسا بالکل غلط ہے بلکہ ہم جو غذا کھاتے ہیں اس سے جلد کو غذا ملتی ہے۔ جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے شہد، دودھ، پھل، سبزیاں، معدنی اجزاء اور حیاتین کا استعمال کریں۔ کیپسولوں اور گولیوں میں بند غذا سے جلد کی حفاظت نہیں ہوتی بلکہ قدرتی غذاء کا سہارا لیں۔ فائبر (Fiber) ریشہ دار چیزیں آنتوں کو صاف کرتی ہیں اور گندہ فاسد خون صاف کرتی ہیں۔ جس سے جلد صاف اور شفاف ہوتی ہے خواتین کی طرح مردوں کو بھی جلد کی حفاظت کرنی چاہیے۔ استرے یا بلیڈ کے استعمال سے اوپری جلد اُترنے لگتی ہے۔ اگرچہ داڑھی صاف کرنے کا رواج زمانہ قدیم سے ہے مگر قدیم مصری خاص قسم کی کریم استعمال کرتے تھے۔ اگر جلد سکڑی یا خشک ہو تو یہ موسم کا اثر ہوتا ہے۔ موسمی شدت خصوصاً شدید سردی اور گرمی میں ایسا ہو جاتا ہے۔ دھوپ جلد کے لیے مفید ہے مگر ایک خاص حد تک۔ ضرورت سے زیادہ دھوپ میں بیٹھنا مضر جلد ہے۔ رنگت اور رعنائی کو ختم کرتی ہے، اندرونی ریشے لچک ختم کر دیتے ہیں۔ زیر جلد خون کی رگوں پر منفی اثر ہوتا ہے۔ گرم ممالک کے لوگ زیادہ دھوپ سے محفوظ رہنے کے لیے چہروں پر کپڑے ڈالے رہتے ہیں اور چہرے گرم تھپیڑوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ جب ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو یعنی جن دنوں خشک سردی ہوتی ہے تو جلد خشک اور جب بارش کے بعد ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہو تو جلد چکنی ہو جاتی ہے۔ ہماری جلد کے اندر کچھ غدود تیل بناتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جلد کو پھٹنے سے بچانے کے لیے بنایا ہے، جن کی جلد چکنی ہو اُن کو ان غدودوں کی سرگرمی کو کم کرنے کے لیے فالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم مندرجہ بالا تدابیر پر عمل کریں تو اپنی جلد جو آئینہ صحت بھی ہے اسے درست اور صحت مند رکھ کر پورے جسم کو صحت و توانا رکھ سکتے ہیں۔
.
تحریر:  حکیم راحت نسیم سوہدروی

مغزیات ... پروٹین کے مآخذ

موسم سرما میں ہمارے ہاں مغزیات کا بہت استعمال ہوتا ہے۔ مغزیات قوت بخش غذا کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ مغزیات بیج ہیں جن سے درخت جنم لیتے ہیں۔ مغزیات کا استعمال نامعلوم تاریخ سے ہے بلکہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کے ابتدائی دور میں مغزیات کا استعمال بطور غذا ہوتا تھا پھر ان کا استعمال کم ہونے لگا‘ اب تحقیقات جدید کی روشنی میں پھر مغزیات کا استعمال بڑھنے لگا ہے۔ مغزیات میں اخروٹ، بادام، ناریل، مونگ پھلی، کاجو، پستہ وغیرہ شامل ہیں۔ بعض مغزیات میں قوت بخش اجزاء بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 15 تا 20 فیصد پروٹین 50 تا 60 فیصد روڈن 9 تا 12 فیصد کاربوہائیڈریٹ 3 تا 5 فیصد کیلوریز اور معدنیات کئی ایک فیصد ہوتی ہیں۔ معدنی اجزاء میں پوٹاشیم صحت بخش، سوڈیم جوانی برقرار رکھنے والے کیلشیم اور گندھک کے اجزاء ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سو گرام مغزیات کے استعمال سے چھ سو حرارے (کیلوریز) پیدا ہوتے ہیں۔ اسی مقدار میں گندم استعمال کیا جائے تو تین سو اٹھارہ حرارے پیدا ہوتے ہیں اور سو گرام کھجوروں میں دو سو تراسی حرارے پیدا ہوتے ہیں۔ سبزیوں کے مدمقابل مغزیات میں زیادہ روغن ہوتا ہے۔ ان میں مجموعی وزن کا نصف تیل پیدا ہوتا ہے، روغن پیدا کرنے کی خاصیت کے سبب ہی اس میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ جس قدر پروٹین (لحمی اجزائ) مغزیات کے اندر ہوتے ہیں اس قدر سبزی میں نہیں ہوتے، قدرتی طریقہ علاج کے عالمی ماہر ڈاکٹر کیلوگ کا کہنا ہے کہ تمام نباتاتی خوراک میں سب سے عمدہ پروٹین مغز کے اندر ہوتی ہے۔ یہ حیوانات کے گوشت سے بھی زیادہ طاقت بخش ہے۔
شاہ بلوط اور اخروٹ کا دودھ دوسرے تمام دودھوں کے مقابل پانچ گنا طاقت بخش ہے۔ یہ امر ہمیشہ پیش نظر رہے کہ مغزیات کے اندر جو پروٹین ہوتا ہے وہ مزاج کے اعتبار سے سرد ہوتا ہے اور اسے ہضم کرنے کے لئے جسم کے اندر حرارت درکار ہوتی ہے‘ اس لئے ناتواں اشخاص جن کے اندر مغزیات ہضم کرنے کے لئے صلاحیت کم ہوتی ہے‘ وہ اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اس لئے لوگ مغزیات کا استعمال اعتدال سے کریں تو بہتر ہے۔
مغز کو اس کی طبعی حالت میں ہی استعمال کرنا چاہیے، خام مغز کی بھیگی ہوئی چکنائی جسم کے لئے بہت فائدہ مند ہے‘ اس سے دل اور اس کی شریانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ خام مغز اس لئے محفوظ ہے کہ اس کا اندرونی چھلکا سخت ہوتا ہے جو جراثیم کو روکنے کے لئے مؤثر ہوتا ہے۔ مغز کو اس کی افادیت اور خصوصیات کے ساتھ طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ مغز کو آسانی سے ہضم کرنے کے لئے ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے خوب چبا کر استعمال کریں۔ پستہ اور بادام کو استعمال سے چند گھنٹے قبل پانی میں بھگو رکھیں کہ وہ نرم ہو کر جلد ہضم ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ انہیں پیس کر چھڑک کر استعمال کیا جا سکتا ہے‘ اس طرح یہ زود ہضم ہو جائے گا ورنہ بغیر پکائے مغز زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ مغزیات کو اگر دودھ یا شہد یا دیگر مشروبات کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ بہتر ہضم ہو جاتا ہے‘ اس طرح غذائیت تو حاصل ہو جاتی ہے مگر ریاح پیدا نہیں ہوتے۔
بادام کا دودھ ایک عمدہ غذا ہے اور بہترین مشروب ہے جس کے اندر پروٹین وافر مقدار میں ہوتی ہے اور جلد ہضم ہوتا ہے۔ خون کی کمی آنتوں کے امراض موتی جھڑہ میں اس کے فوائد بہت ہیں‘ جگر میں بھی مفید ہے۔ مونگ پھلی سے نظام ہضم کی کمزوری اور خرابیاں رفع ہوتی ہیں۔ قبض کشا ہے اور گیس خارج ہوتی ہے۔ ناریل، گیس ناسور، بواسیر اور اعصابی کمزوری میں مفید ہے۔ اخروٹ گنٹھیا میں مفید ہے۔ پستہ خون کی کمی اور اعصابی خرابیوں کو صحیح کرتا ہے۔ البتہ وہ لوگ جنہیں فشار خون کی شکایت ہو وہ موسم سرما میں مغزیات سے احتیاط کریں۔ یوں بھی ہر چیز کا استعمال حد اعتدال میں مناسب ہوتا ہے اس لئے اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
موسم سرما میں سردی سے بچائو کے لئے بھی مغزیات کا استعمال مفید ہے، موسم گرما میں مغزیات کا استعمال بہت کم ہوتا ہے البتہ سرد مزاج کے مغزیات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بادام کے مغز کا سفوف بنا کر دودھ پر چھڑک کر ہمیشہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک عمدہ ٹانک ہے بالخصوص ایسے لوگوں کے لئے جو اعصابی کمزوری، خون کی کمی اور یادداشت متاثر ہونا یا حافظہ کی کمزوری کی شکایت کرتے ہیں۔ دماغی کام کرنے والوں اور طلبہ کے لئے یہ ایک نہایت عمدہ غذا و دوا ہے اور قدرت کی اس نعمت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
.
تحریر:  جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

اخروٹ ... غذائیت کا خزانہ

سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی خشک میوہ جات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ یہ میوہ جات قوت بخش غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان سے جسم میں طاقت اور حرارت کا احساس ہوتا ہے اور موسم سرما کی سردی کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی خشک میوہ جات میں ایک اخروٹ ہے جس کا مغز بڑے شوق سے استعمال ہوتا ہے جو بہت توانائی بخش اور مفید ہوتا ہے۔
مغزیات کا استعمال یوں تو تاریخ سے معلوم ہے بلکہ اندازہ یہ ہوتا ہے کہ خشک میوہ جات اور ان کے مغز زندگی کے ابتدائی دور میں بطور غذا استعمال ہوتے رہے ہیں مگر جدید تحقیق کی روشنی میں ان کی افادیت کا اندازہ ہونے پر پھر سے استعمال بڑھ رہا ہے۔ مغزیات میں بادام، اخروٹ، ناریل، مونگ پھلی، کاجو، پستہ وغیرہ شامل ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق مغزیات میں ۱۳ تا ۲۰ فی صد لحمیات، ۵۰ تا ۶۰ فیصد روغنیات، ۹ تا ۱۲ فیصد نشاستہ، ۳ تا ۵ فی صد کیلوریز اور کئی دوسری معدنیات کی مقدار ایک فی صد ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک سو گرام مغزیات میں چھ سو غذائی حرارے (کیلوریز) پیدا ہوتے ہیں۔ سبزیوں کے برعکس مغزیات میں روغن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس کے مجموعی وزن کے نصف برابر تیل پیدا ہوتا ہے۔ روغن پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ مغز کو طبعی حالت میں استعمال کرنا چاہیے۔ اخروٹ موسم سرما میں استعمال ہونے والے خشک میوہ جات میں اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ سرد برفانی علاقوں کے لوگ موسم کی شدتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا بکثرت استعمال کرتے ہیں اور میدانی علاقوں کے لوگوں میں بھی یہ رغبت سے استعمال ہوتا ہے۔ اپنے غذائی حراروں کے سبب موسم سرما میں جسم میں طاقت اور حرارت کا احساس دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غذا اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
اخروٹ ایک درخت کا پھل ہے جس کا شمار ہمارے ہاں خشک میوہ جات میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں اخروٹ کے درخت بلوچستان، سوات، مری، آزاد کشمیر کے علاقوں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ ایران اور افغانستان میں بھی اخروٹ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اخروٹ کے درخت کی لمبائی عموماً ایک سو سے ایک سو بیس فٹ تک ہوتی ہے اور گولائی بارہ سے تیس فٹ تک ہوتی ہے۔ تیس سال کے بعد اس درخت میں پھل آنے لگتا ہے اور بعض اوقات چالیس سال سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔ جب اس کا پھل اکٹھا کیا جاتا ہے تو اسے استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ اس وقت ان میں دودھ جیسی رطوبت نکلتی ہے۔ تین ماہ کے بعد یہ دودھ جیسی رطوبت جم کر مغز بن جاتی ہے جسے مغز اخروٹ کا نام دیا جاتا ہے اور پھر اسے موسم سرما میں خشک میوہ کے طور پر غذائیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اخروٹ میں پائے جانے والے غذائی اجزاء کا جو کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہے اس کے مطابق ایک ہزار گرام اخروٹ میں حسب ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں:
پانی ۱، ۳ گرام، لحمیات، ۵، ۲۰ گرام، روغنیات، ۳، ۵۹ گرام، چکنائی، ۸،۱۴ گرام، ریشہ ۷،۱ گرام، راکھ، ۲،۲ گرام، کیلشیم ۱۵،۰ گرام، فاسفورس ۷۰،۵ گرام، فولاد ۰،۶ گرام، سوڈیم، ۰،۳ گرام، پوٹاشیم، ۶۰،۵ گرام، حیاتین بی و ۲۲،۰ گرام، حیاتین بی ٹو ۱۱، ۰ گرام، کیلوریز ۶۲۸ گرام، عام طور پر اخروٹ کا مغز ہی استعمال ہوتا ہے مگر اطباء کرام اخروٹ کا چھلکا، پتے اور جڑ وغیرہ بھی مختلف امراض کے لیے دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اخروٹ کے مغز کا مختلف طریقوں اور امراض میں استعمال کا طریقہ درج ذیل ہے۔

تقویت دماغ اور اعصاب کے لیے:
مغز اخروٹ دماغ اور اعصاب کو طاقت و توانائی بخشتا ہے، دو عدد اخروٹ کا مغز نکال کر مویز منقی کے ساتھ پیس کر روزانہ صبح نہار منہ دودھ کے ساتھ استعمال کیا جانا مفید ہے۔ اس طرح دماغ اور اعصاب کو طاقت ملتی ہے جس سے سر درد اور یادداشت بہتر ہوتی ہے اور عام جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے۔

چہرے کی چھائیاں:
اخروٹ کا مغز جو پرانا ہو جائے چبا کر خراب زخموں اور ناسور کے لیے لگانا مفید ہے۔ تازہ مغز اخروٹ کا لیپ لگانے سے چہرے کی چھائیوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

فالج اور لقوہ:
مغز اخروٹ اپنی گرم تاثیر کے سبب سرد امراض میں مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید سردی سے ہونے والے امراض وجع المفاصل (جوڑوں کا درد) اور فالج و لقوہ میں مغز اخروٹ اور زیرہ سیاہ برابر وزن میں پیس کر شہد ملا کر جسم پر مالش کریں اور پھر چت لٹا کر اوپر لحاف اوڑھا دیں یہاں تک کہ پسینہ آجائے پھر جسم کو خشک کر کے سرد ہوا سے بچا کر اسے الگ کمرے میں رہنے کی تاکید کریں، چند دنوں میں بہتری ہو جائے گی۔

بدہضمی:
نظام ہضم کی اصلاح کے لیے اخروٹ کے مغز پیس کر ناف پر لیپ کریں، مروڑ رک جاتے ہیں۔ مغز اخروٹ کچھ عرصے سرکہ میں بھگو کر رکھنے کے بعد استعمال کریں تو معدہ کی کمزوری دور ہو جاتی ہے چونکہ مغز اخروٹ دیر ہضم ہوتا ہے اس لیے اسے کم مقدار میں استعمال کرنا چاہیے، اس میں تیل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے جلد خراب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ زیادہ عرصے تک رکھنے کے بعد استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

بائولے کتے کا زہر:
مغز اخروٹ اور پیاز ہم وزن ملا کر تھوڑا سا نمک ملا کر بائولے کتے کے کاٹے پر لگانے سے اس کا زہر ختم ہو جاتا ہے۔

مغز اخروٹ کا مربہ:
یہ مربہ سرد مزاج والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ سرد امراض میں جلدی افاقہ ہوتا ہے اور جگر کی برودت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ اخروٹ کا تازہ مغز لے کر اوپر کا باریک چھلکا ہٹا کر مٹی کی ہانڈی میں بھر کران کے اوپر تک پانی بھر دیں، پھر نمک ڈال کر چوبیس گھنٹے بعد نکال کر پانی سے صاف کر لیں اور سائے میں خشک کر کے شہد کا شیرہ بھر دیں کہ مغز ان کے نیچے ڈوب جائیں اب انہیں مرتبان میں رکھ کر استعمال کریں۔ 

اخروٹ کے چھلکے:
تازہ اخروٹ کے چھلکے جو سبز ہوتے ہیں کو اتار کر منجن کے طور پر استعمال کریں جس سے دانت صاف اور چمکدار ہو جاتے ہیں اور مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ خون آنا بند ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ پہاڑی مقامات سے تازہ اخروٹ لا کر بزرگ خواتین کو تحفے میں دیتے ہیں جو وہ دانتوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مغز اخروٹ کے منجن میں مزید درج ذیل دوائیں بھی شامل کی جاتی ہیں:
اخروٹ کے خول ۲۰۰ گرام،
سفید صندل ۲ گرام ،  پھٹکری بریاں ۵ گرام
خوردنی نمک ۵ گرام، مشک کافور ۲ گرام
ان سب اجزاء کو پیس کر خوب باریک کر لیں اور چھان کر بطور منجن استعمال کریں۔ رات کو سونے سے قبل اس منجن کا استعمال کریں۔ یہ منجن دانتوں کے جملہ امراض کے لیے مفید ہے۔ پائیوریا سے بچنے کے لیے اخروٹ کی جڑ کی مسواک بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ کے بیرونی سبز چھلکے کو پانی میں جوش دے کر اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر کلی کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

بواسیر:
اخروٹ کی جڑ کو زیتون کے تیل میں جوش دیں کہ گل جائے پھر بواسیر کے مسوں پر لگا دیں۔ 

کھانسی اور گلے کے امراض:
بھنے ہوئے مغز اخروٹ کے ساتھ دو گرام ست ملٹھی، مغز کدو پانچ عدد اور گوند کیکر تین گرام ملا کر شہد کے ساتھ استعمال کرنے سے کھانسی اور گلے میں مفید ہے۔ 

اخروٹ کا تیل:
اخروٹ میں روغن کی مقدار باقی خشک میوہ جات کی نسبت زیادہ ہوتی ہے، یہ کافی گرم ہوتا ہے۔ اس کی مالش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے جس سے پٹھوں میں موسم سرما میں ہونے والے درد کو فوری فائدہ ہوتا ہے اور فالج میں بھی مفید ہے۔ اخروٹ کا تیل اور زیتون کا تیل باہم ہم وزن ملا کر سر میں لگانا جوئیں ختم کرتا ہے۔ 

سیاہ بال:
بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے اور سفید ہوتے ہوئے بالوں کو روکنے کے لیے یہ تدبیر مفید ہے:
اخروٹ کا سبز چھلکا    ۱۵ گرام
پھٹکری         ۲ گرام
بنولے کا تیل     ۲۵۰ گرام
بنولے کے تیل کو چینی کے برتن میں ڈال کر اس میں اخروٹ کے چھلکے ڈال لیں اور اس کو ہلکی آنچ پر اتنا گرم کریں کہ اخروٹ کے چھلکے میں سے نمی اڑ کر مکمل خشک ہو جائے یعنی رنگت سیاہ ہو جائے پھر تیل کو چھان کر استعمال کر سکتے ہیں۔
.
تحریر:  جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

سونف ... ایک کرشماتی دواء


سونف کو عربی میں راز یا بانج‘ فارسی میں بادیاں اور انگریزی میں (Fennel) کہتے ہیں۔ جبکہ اردو اور پنجابی میں سونف ہی کہتے ہیں۔ سونف ایک پودے کے بیج ہیں۔ یہ پودا ایک گز لمبا خوبصورت‘ باریک باریک پتیوں والا ہوتا ہے جس کے سر پر جا کر سونف کا گچھا بالکل الٹی چھتری کی طرح لگتا ہے۔ ایک ایک گچھے میں سو سو‘ پچاس پچاس دانے ہوتے ہیں۔ شروع میں چھوٹے چھوٹے پھول کی طرح بیج ہوتے ہیں جن میں خوشبو آتی ہے‘ پھر یہ سونف میں بدل جاتی ہیں‘ گچھوں کو کاٹ کر سونف کو الگ کر لیا جاتا ہے اور جڑ الگ کر لی جاتی ہے۔
سونف کی دو اقسام ہیں: جنگلی اور بستانی‘ سونف کا پودا تقریبا تمام دنیا میں پایا جاتا ہے‘ اطباء نے اس کا مزاج گرم وخشک بتایا ہے۔ سونف ہمارے ہاں بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ اسے منہ کو خوشبودار بنانے کے علاوہ کھانے کی مختلف اشیاء مثلاً اچار‘ میتھی‘ ٹھنڈائی‘ سردائی میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ پان سپاری سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔ طب میں بطور دوا اس کا استعمال صدیوں سے ہے۔ سونف مدر بول یعنی پیشاب آور ہے‘ اس مقصد کے لیے سونف کا عرق وشربت استعمال کرایا جاتا ہے۔ مدر حیض جوشاندوں میں بھی سونف ایک اہم جزو ہے۔
سونف خواتین میں دودھ کی مقدار بڑھاتی ہے۔ اپنے پیشاب آور اثرات کے سبب پتھری نکالنے والی ادویہ کے ہمراہ استعمال کرایا جاتا ہے۔ درد قولنج میں فائدہ دیتی ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق سونف میں روغن فراری‘ پٹیاسوں‘ بیکٹن‘ نشاستہ‘ کوٹیکسن‘ آیوڈین‘ وٹامن اے‘ تھایاسین‘ رائیوفلاوین‘ تیاسین اور وٹامن سی پایا گیا ہے۔ ایلومینیم‘ بیریم‘ لیتھیم‘ کاپر‘ سنگانیز‘ سیلیکان اور سٹیم بھی خفیف مقدار میں ہوتے ہیں۔ سونف کے تیل کا اہم جزو منتھول ہے اور اس کے بنیادی اجزاء رینیل ڈی ہائیڈ اور انیک ایسڈ ہیں۔


دستوں کے لیے:
بادیان دیسی گھی میں بھون کر اس میں شکر ملا کر صبح وشام ۹‘ ۹ گرام کھانے سے دست بند ہو جاتے ہیں۔ اگر ان میں بیل گری کا اضافہ کر لیا جائے تو دست روکنے کی بہترین دوا ہے۔


جگر:
جگر کے امراض میں بادیان کی جڑیں مفید ہیں۔ معدہ جگر اور گردوں میں بادیان کی جڑیں استعمال کرائی جاتی ہیں۔


قبض:
بادیان چھ گرام‘ سنا مکی چھ گرام‘ دونوں کو جوش دے کر چھان کر حسب ضرورت چینی ملا کر پی لیا جائے تو قبض جاتی رہے گی۔


خفقان:
جن لوگوں کو وحشت وخوف اور دل تیز دھڑکنے کی شکایت ہو وہ بادیان پانچ گرام‘ گل گاؤ زبان پانچ گرام جوش دے کر چھان کر شہد ایک چمچہ ملا کر چند روز صبح نہار منہ پی لیں تو بہت مفید ہے۔


تیزابیت:
بادیان اور ملٹھی مقشر ہم وزن پیس کر رکھ لیں۔ صبح‘ دوپہر‘ شام کو کھانے سے قبل ہمراہ شربت بادیان ۱‘ ۱ چمچہ‘ ۲‘ ۲‘ ۲ گرام لینے سے معدہ میں جلن اور تیزابیت میں فائدہ ہوتا ہے۔


تبخیر معدہ:
کاسر ریاح ہونے کی وجہ سے تبخیر معدہ میں بہت مفید ہے۔ طبیعت کو سکون دیتی ہے۔ تبخیر معدہ والے لوگ بادیان کو پیس کر صبح وشام پانچ پانچ گرام بعد از غذا کھا لیا کریں یا جوش دے کر پی لیا کریں۔


سفوف تبخیر:
بادیان اور دانہ الائچی کلاں ہم وزن لے کر پیس لیں اور دوپہر شام کھانے کے بعد دو‘ دو گرام تازہ پانی سے کھا لیا کریں۔


ضعف بصارت:
بادیان کا سفوف پانچ گرام ہمراہ گاجر کا رس ایک گلاس چند روز تک مسلسل پینا مفید ہے۔


سفوف مقوی بصر:
بادیان ۲۵۰ گرام صاف کر کے میٹھے بادام ۱۲۵ گرام‘ کالی مرچ ۵۰ گرام۔ ان تینوں کو برابر وزن شکر ملا کر سفوف بنا لیں۔ روزانہ صبح دو چمچے ایک گلاس دودھ کے ساتھ کچھ عرصہ تک استعمال کرنے سے بصارت کو طاقت ملے گی‘ دماغ کو تقویت ہو گی جس سے نظر بہتر ہو جائے گی۔


ہاتھ پاؤں جلنا:
جن لوگوں کے ہاتھ پاؤں جلنے کی شکایت ہو ایسے لوگ روزانہ صرف بادیان چھ گرام تازہ پانی سے کھا لیا کریں انہیں فائدہ ہو گا۔


بچے کی ریاح:
چھوٹے شیر خوار بچے عموماً پیٹ کے امراض کا شکار ہوتے رہتے ہیں جن میں ریاح بھر جانا سب سے زیادہ ہے۔ ایسے بچوں کو چھ گرام بادیان جوش دے کر چھان کر دن میں چار یا پانچ مرتبہ ایک ایک چمچہ پلانا مفید ہے۔


قے اُبکائی متلی:
بادیان ۳ گرام‘ پودینہ ۳ گرام‘ دار چینی ۱ گرام‘ الائچی سبز تین عدد جوش دے کر چھان کے پی لیں۔


بھوک نہ لگنا:
جن لوگوں کو بھوک کم لگنے کی شکایت ہو وہ ذیل کا جوشاندہ پندرہ روز پی لیں‘ بھوک اچھی طرح لگے گی۔
پودینہ خشک چھ گرام‘ بادیان چھ گرام‘ مویز منقی ۹ دانہ‘ آلو بخارا خشک پانچ عدد‘ آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر روزانہ صبح نہار منہ پی لیا جائے۔


عرق بادیان:
بادیان کا عرق بھی کشید کیا جاتا ہے جو طب مشرقی میں صدیوں سے مستعمل ہے۔ یہ معدہ اور امعاء کے لیے بہتر ہے‘ ریاح خارج کرتا ہے اور پیشاب آور ہے۔
.
تحریر:  جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی

قبض ... بیماریوں کی جڑ

قبض ان امراض میں شامل ہے جس کا شکار آج کل بیشتر افراد ہیں‘ اسے تہذیب جدید کا تحفہ قرار دینا مناسب اور صحیح ہوگا۔ اس مرض کے شکار افراد میں عمر کی کوئی قید نہیں۔
قبض کو ام الامراض کہا جاتا ہے یعنی امراض کی ماں۔ اس سے کئی امراض جنم لیتے ہیں۔ قبض اجابت کا بروقت نہ ہونا ہے۔ اس کی متعدد اقسام ہیں جن میں وقت پر با فراغت اجابت کا نہ ہونا، سخت قسم کا براز خارج ہونا، دو تین دن تک اجابت کا نہ ہونا۔ اجابت کے وقت دقت ہونا، وغیرہ شامل ہیں۔ قبض نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے میں ایک بار اجابت بغیر دقت ہو جائے۔
جب ہم غذا کھاتے ہیں تو یہ معدہ میں جاتی ہے جہاں سے نکل کر چھوٹی آنت میں داخل ہوتی ہے تو ہاضمے کا عمل نسبتاً تیز ہو جاتا ہے۔ چھوٹی آنت اسے مزید قابل ہاضم بناتی ہے اور غذا کا مائع حصہ بڑی آنت میں تکمیل کو پہنچتا ہے۔ یعنی پانی جذب ہو کر باقی حصہ فضلہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو ہمارے شکم کے بائیں طرف آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہے اور قولون کے ساتھ ساتھ اترنے لگتا ہے۔ یہ پورا عمل اور فضلات کا اخراج صحت کے لیے بہت ضروری ہے البتہ اس عمل کی رفتار مختلف اجزا میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر ہضم کا عمل سست ہو تو اجابت خشک اور سخت ہو سکتی ہے اس کو قبض کہتے ہیں جو بعض صورتوں میں خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ قبض کی صورت میں پیٹ میں گرانی اور طبیعت میں بے چینی ہوتی ہے، مزاج میں چڑ چڑا پن، سستی ہوتی ہے۔ منہ سے بدبو اور بدبور دار ریاح خارج ہوتے ہیں۔
گاہے سر میں درد اور اختلاج قلب (دل ڈوبنا) کی شکایت ہوتی ہے۔ بھوک کم لگتی ہے۔ بعض لوگوں میں کمر درد بھی ہوتا ہے۔ فضلات کے جمع رہنے سے گیس ریاح پیدا ہوتے ہیں‘ اگر یہ خارج نہ ہوں تو تکلیف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر بھوک تو اسی وقت لگے گی جب پہلی غذا خارج ہو گی اور مزید غذا کے داخلے کے لیے جگہ بن جائے گی۔
قبض ہونے کے کئی اسباب ہیں: بعض انفرادی ہوتے ہیں یعنی اجابت کو دبانا، اجابت کی خواہش ہونے پر غفلت کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ شہروں میں رہنے والے لوگ جو کہ ریشہ (فائبر) کا استعمال کم کرتے ہیں، فروٹ، بن، کباب اور شیر مال کا بکثرت استعمال کرتے ہیں، پھلوں، سبزیوں کی بجائے مرغن تلی ہوئی غذائوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ نقص تغدئیہ کے علاوہ بعض بری عادات بھی قبض کا سبب بنتی ہیں۔ چنانچہ جذبات بھی ہاضمے میں ایک گونہ اہمیت کے مالک ہیں۔ غذائی اوقات میں بدنظمی سے بھی اجابت کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات ادویہ کے استعمال سے اور بکثرت تمباکو نوشی، چائے کے استعمال سے بھی قبض رہنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ آنتوں کی حرکت دودیہ کی سستی، اخراجی قوت کی کمی، آنتوں میں رطوبت کی کمی، ثقیل غذائوں کا زیادہ استعمال، آرام طلبی، ورزش کا فقدان اور پانی کے کم استعمال سے بھی قبض کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
قبض کا اصل علاج یہ ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی بچوں میں صحت مند عادات کا شعور پیدا کیا جائے یعنی وقت مقرر کر لیا جائے۔ اس حوالے سے والدین پر اہم ذمہ داری ہے۔ قبض کشا ادویہ کا اصل مقصد وقتی آرام ہوتا ہے۔ کیونکہ مریض کو جو ذہنی و جسمانی عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ ان میں وقتی آرام ضروری ہوتا ہے۔۔۔ لوگ آسان طریقہ سمجھ کر ان ادویہ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ دوسری ادویہ کی طرح ان کے بھی مضر اثرات ہوتے ہیں، آنتوں میں بل پڑنے سے اسہال ہو کر جسم میں پانی کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح آنتوں کے ریشوں و عضلات کو نقصان ہوتا ہے۔ پھر قبض کی ادویہ ہمیشہ معالج کے مشورہ سے لیں۔ پھر قبض کا علاج سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ ابتدا میں اور ہلکی قبض میں حجم بڑھانے والی ادویہ مثلاً آٹے کی بھوسی و بغیر چھنا آٹا کھائیں، غذا میں پھل سبزیاں ریشہ سمیت، ساگ پات، شلجم، گھیا، توری، ٹینڈا، کدو، کریلا کھائیں اور اسپغول چھلکا دو چمچ نیم گرم دودھ میں ملا کر رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ اگر آنتوں میں حرکت دودیہ سست ہو تو ’’ترپھلہ‘‘ اور ہڑڑ سیاہ کے مربہ کا استعمال مفید ہے۔ آنتوں کی حرکت چست رکھنے کے لیے روزانہ ریشہ ۲۶ گرام غذا میں استعمال کریں اور آٹھ دس گلاس پانی پی لیں۔ ورزش بھی قبض میں مفید ہے۔ ورزش سے اعصاب کو طاقت ملتی ہے۔ غذا کے اخراج کا عمل تیز ہوتا ہے اور آنتوں کو حرکت و تحریک ملتی ہے، رات کھانے کے کم از کم دو گھنٹہ بعد سوئیں۔ آنتوں میں خراش پیدا کرنے اور فضلے کو نرم کرنے والی ادویہ کا استعمال ہمیشہ معالج کے مشورے سے کریں۔ آنتوں کی خشکی کی صورت میں گلقند، اسپغول، روغن بادام، روغن زیتون کا استعمال مفید ہے۔ طب مشرقی میں ہڑڑ، سقمونیا، ہلیلہ کا صدیوں سے قبض کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اب تو مغرب میں بھی ان سے ادویہ بن چکی ہیں۔
.
تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوھدروی